طلبہ گروہوں میں تصادم قابل مذمت، سازشی عناصر بلوچ پشتون اتحاد سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، کلوم نیاز بلوچ
کوئٹہ : نیشنل پارٹی خواتین ونگ کے صوبائی صدر کلثوم نیاز بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آبادقائد اعظم یونیورسٹی میں بلوچ اور پشتون طلباءکے درمیان ہونے والی تصادم کی شدید الفاظ میں مذمت اور واقعہ کی صاف وشفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں سیاسی جماعتیں اور دیگر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے اقوام دونوں طلباءتنظیموں کی تصادم کو کوئی قومی و لسانی رنگ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جائے طلباءپر تشدد کی مذمت کرتے ہیں اس تما م صورتحا ل کا ذمہ دار یونیورسٹی انتظامیہ ہے جس کی نا اہلی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ‘ اپنے جاری کردہ بیان میں کلثوم نیاز بلوچ نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں گزشتہ روز بلوچ پشتون طلباءکے درمیان تصادم افسوسناک و قابل مذمت ہے، بلوچ پشتون برادر اقوام ہیں، ملکر غضب شدہ حقوق کی حصول کیلئے اتحاد و اتفاق کےلئے ماحول سازگار بنائیں دونوں اقوام کے درمیان اتحاد کو برقرار رکھنے کےلئے بزرگ سیاسی اکابرین کا کلیدی اور تاریخی کردار رہا ہے کیونکہ دو برادر اقوام نے ہمیشہ اپنے قومی حقوق و اختیار، زبان وجود کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرتے ہوئے استعماری قوتوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے یہ رشتہ آج کا نہیں ہے بلکہ نوری نصیر خان اور احمد شاہ ابدالی کے وقت سے چلے آ رہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشکل اور کٹھن وقت پر بلوچ پشتون اکابرین نے مشترکہ طور پر جدوجہد کی تو انہیں دنیا کی کوئی حملہ آور طاقت زیر نہیں کر سکابیان میں مزید کہا کہ اقتدار پر براجمان عناصر آج بااختیار قوتوں کی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کی پالیسیوں کی راہ ہموار کرنے کےلئے بلوچ اور پشتون اتحاد میں روڑے اٹکانے اور مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے کسی بھی صورت میں کامیاب ہونے نہیں دیں گے نیشنل پارٹی اس واقعہ کی بھر پور الفاظ میں مذمت اور تمام صورتحال کی جائزہ لینے کےلئے اعلیٰ سطح پر کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہے تاکہ واقعہ صاف وشفاف تحقیقات کر کے ملوچ عناصر کو قانون کے مطاب سزا دی جائے ۔


