مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان پل کا کردار ادا کروں گا، نا مزد گور نر بلو چستان
کوئٹہ: بلو چستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر نا مزد گور نر بلو چستان ملک عبد الو لی خان کاکڑ نے کہاہے کہ بلوچستان کو ایک عرصہ دراز سے چیلنجز کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ، گور نر ایک آئینی حیثیت رکھتا ہے میر ی کوشش ہو گی کہ وفا قی اور بلو چستان کے درمیان ایک پل کا کر دار اد کرسکوں، سر دار اختر جان مینگل نے بی این پی سے پشتون شخص کو گور نر کے لئے نامزد کر کے تاریخ رقم کر دی ہے،پارٹی کی تر جیحات بلو چستان کی تر جیحات ہیں ۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو میڈ یا سے گفتگو کر تے ہوئے کہی۔ا س موقع پربی این پی کے پار لیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی اور رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ بھی موجود تھے۔ملک عبد الو لی خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلو چستان میں بہت سے مسائل اور مشکلات ہیں میری کوشش ہو گی کہ بلو چستان کو درپیش مسائل میں کمی کے لئے اقدامات اٹھا سکوں ، پارٹی کے سینئر عہدیداروں اور سیا سی دستوں کے تجربے کو سامنے رکھ کر بلو چستان کے مسائل کو حل کر نے کے لئے جدو جہد کروں گا ۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان کو ایک عرصہ دراز سے چیلنجز کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے پارٹی کی تر جیحات بلو چستان کی تر جیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گو رنر ایک آئینی حیثیت رکھتا ہے میر کوشش ہو گی کہ وفا قی اور بلو چستان کے درمیان ایک پل کا کر دار اد کر وں ۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان میں بسنے والے تمام اقوام کو ناامید نہیں کروں گا ، وفا ق میں بلو چستان کے مسائل پیش کر کے انہیں حل کر نے کی کوششیں کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میرے والد ملک عبد اعلی کاکڑ نے 1936میں باچا خان سے ملا قات کے بعد سیا سی جد وجہد کا آغاز کیا وہ میرے ولد ہو نے کے ساتھ ساتھ میرے استاد بھی تھے ، آج جو نظریہ میں لیکر چل رہا وہ میرے ولد کا ہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میر ی عمر 64سال ہے اور میں جا معہ بلو چستان سے سوشیالوجی میں ما سٹر کر چکا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ باچا خان کو میں اپنا سیا سی استاد سمجھتا ہوں اور آج مر حوم سر دار عطاءاللہ خان مینگل اور سر دار اختر جان مینگل کے نقش قدم پر چل رہا ہوں۔ انہوں نے سر دار اختر جان مینگل کا شکریہ ادا کر تے ہوئے کہا کہ سر دار اختر جان مینگل نے بلو چستان نیشنل پارٹی سے پشتون شخص کو گور نر بلو چستان کے لئے منتخب کر کے تاریخ رقم کر دی ہے ۔


