پنجگور سے جے یو آئی کے رہنما یاسین زہری ہزاروں ساتھیوں سمیت پارٹی سے مستعفی

پنجگور (نامہ نگار) پنجگور جمعیت علمائے اسلام کو بڑا دھچکا ممتاز سیاسی سماجی وقبائلی شخصیت اور پنجگور سے جمعیت علمائے اسلام کے سابق امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حاجی محمد یاسین زہری اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام سے مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے زہری ہاﺅس چتکان میں ڈاکٹر طارق، ماسٹر رسول جان، ٹھیکیدار محمد نسیم، میر غوث بخش کشانی، محمد انور نور، حاجی محمد اشرف، میر غلام نبی گرمکانی، کہدہ عبدالسلام راغب، حاجی یوسف سوردو والا، علی احمد، کونسلر میونسپل کارپوریشن، حق نواز زہری، لالا داﺅد منیر، سلطان گرمکانی، میر الٰہی بخش، ماسٹر شادان مسٹر لیاقت عیسیٰ والے بابو اسد، جنید، عبدالرزاق، نصراللہ تارآفس والا، ماسٹر مقبول، حوالدار محمد یونس، حاجی ابراہیم مینگل زاہد، میر لعل بخش، لالا خدا نذر دہوار، امجد علی سوردو والا، سیٹھ عبیدین کریم بخش، عبدالخالق مجبور آبادی، خلیفہ سراوانی ماسٹر عبدالمالک، نورجان کہن زنگی والے ، حاجی عبدالحمید چتکانی، عبدالروف ،عبدالباسط چتکانی، عبدالرشید مینگل، رحمت اللہ، زبیراحمد قلم چوکی والے، حاجی محبوب چتکانی واجہ شفیع اللہ گرمکان وال، عبدالغفار مینگل ،دین محمد مینگل، سیف اللہ، فقیر محمد، نذیراحمد رئیسانی امان جان، محمد یاسین شاپاتانی، کریم اسیر سمالانی، زاہد حاجی اعظم، حافظ شفیع، کلیم اللہ وزیر، میر اللہ بخش محمد حسنی، عبدالحفیظ، عبدالحلیم استاد اکبر، علی حسن، رحمت اللہ زہری، گل محمد عرف بابل، عبدالمنان محمد حسنی ،نذیراحمد ڈایاں زہری ،نوراحمد سراج احمد سریکورانی اور دیگر کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے اسلام سے باقاعدہ مستعفی ہونے کا اعلان کیا حاجی محمد یاسین زہری نے کہا کہ ہماری وابستگی جمعیت علمائے اسلام سے ہے میں نے 2018 کے الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پرباقاعدہ پنجگور کے حلقہ پی بی 43 سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا جس میں مجھے 4 ہزار سے زائد ووٹ بھی ملے تھے آج کے اس پریس کانفرنس کے توسط سے اپنے ہزاروں ووٹرز اور ہم خیال ساتھیوں کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں حاجی محمد یاسین زہری نے کہا کہ سیاست ایک رضا کارانہ خدمت ہے یہ باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کو ساتھ لیکر چلنے کا نام ہے اور میں نے جمعیت کو اس امید پر جوائن کیا تھا تاکہ اس میں رہ کر پنجگور کے عوام کی خدمت کرسکوں مگر جمعیت کے دوستوں نے ہمیں ہر قدم پر مایوس کیا اور عوام پارٹی سے متنفر ہونا شروع ہوگئے جس پر میں بارہا جمعیت کے ضلعی اور مرکزی قیادت کو آگاہ کرتا رہا مگر وہ بجائے ورکروں کی رائے اور انکی جائز شکایتوں کو مل بیٹھ کر حل کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالتے الٹا نظریاتی اور فکری ورکروں کو دیوار سے لگانے کی روش پر قائم رہے اور انہیں ہر طرح سے نظر انداز کرکے انکے احساسات کو مجروح کیا انہوں نے کہا کہ آج میں اپنے ہم خیال فکری ونظریاتی دوست اور رفقا کے ہمراہ جمیت علمائے اسلام سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں اور آئندہ کے سیاسی سفر کا فیصلہ دوستوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کروں گا انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں نے جمعیت کے ساتھ ہمیشہ بلامعاوضہ تعلق رکھا اور کسی قسم کی مراعات کا مطالبہ نہیں آج کافی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ساڑھے چھ سال میں ہمیں ممبر شپ کارڈ بھی نہیں دیا گیا جمعیت دو لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہے اب ہم نے محسوس کیا کہ اپنے لوگوں کو مذید دھوکہ نہیں دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں