پشتون بلوچ اتحاد وقت کی ضرورت ہے، وسائل کے باوجود دونوں اقوام محکوم ہیں، عوامی نیشنل پارٹی

حب (آئی این پی) عوامی نیشنل پارٹی اور صوبے کے دیگر قوم پرست جماعتوں کے رہنماوں سول سوسائٹی وکلا رہنما¶ں نے کہا ہے کہ اگر فخر افغان رئیس الاحرار خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان کے تعلیمات پر عمل کیا جاتا ان کے افکار آپنائے جاتے تو ملک آج اس افراتفری بے یقینی فرقہ واریت انتہاپسندی، تخریب کاری میں گھرا نہ ہوتا، درپیش مشکلات ومصائب سے جان خلاصی کا واحد حل آئین پر عملدرآمد جمہور کی حکمرانی حقیقی جمہوریت کی بحالی وسائل پر اختیار امن رواداری میں مضمر ہے آج بھی بالادست اشرافیہ حکمران پروردہ قوتوں سمیت تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے تو گمبھیر سیاسی معاشی مشکلات سے چھٹکارا ممکن ہے، پشتون بلوچ اتحاد وقت کی ضرورت ہے وقت آن پہنچا ہے کہ اکابرین کے متعین کردہ اہداف کے حصول کو ممکن بنانے کیلئے ”نیپ” جیسی وسیع النظر قوم دوست وطن دوست مترقی جمہوری پلیٹ فارم پر متحد ہو کر جدوجہد شروع کی جائے باچاخان امن سیمینار نہ صرف ضلع صوبے بلکہ ملک بھر کے دگرگوں غیر یقینی صورتحال میں امید کی کرن ہے جس پر عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کارکن اور ضلعی تنظیم مبارکباد کے مستحق ہیں ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا سابق سپیکر اور رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رشید ناصر نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر رجب علی رند اے این پی کے ضلعی صدر منان افغان عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری یونس بونیری پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری فقیر خوشحال کاسی اے این پی کے صوبائی نائب صدر اصغر علی ترین رکن مرکزی کمیٹی جاوید کاکڑ سپریم کورٹ کے وکیل ملک امین اللہ کاکڑ ایڈوکیٹ نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی فنانس سیکرٹری صابر خان مندوخیل نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی آرگنائزر شاہ زیب بلوچ لسبیلہ بار کے صدر اقبال جاموٹ ایڈوکیٹ حمید اللہ ایڈوکیٹ ضلعی جنرل سیکرٹری شاہ محمد علیزئی نوازعلی برفت ایڈوکیٹ حضرت علی اچکزئی اور دیگر نے حب شہر لیڈا آڈیٹوریم میں منعقدہ باچاخان امن سیمینار کے شرکا سے خطاب کے دوران کیاجس کے دو سیشن تھے پہلا سیشن زیر صدارت ضلعی صدر منان افغان جبکہ دوسرے سیشن کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے کی سیمینار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں وکلا برادری اور سول سوسائٹی کے ذمہ داران نے کثیر تعداد میں شرکت اور خطاب کئے مقررین نے کہا کہ باچاخان امن سیمینار کے انعقاد پر اے این پی کے ذمہ داران کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ آج ہر دور سے زیادہ باچاخان کے تعلیمات اور ان کی فلسفہ عدم تشدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے جنگ کے نتائج بھوک افلاس تباہی بربادی پر منتج ہوتے ہیں جبکہ امن میں اقوم ترقی خوشحالی کے منازل طے کرتے ہیں بد بختانہ گزشتہ 75 سال سے یہاں محکوم اقوام کے وسائل زورآور قوتوں بزور طاقت غضب کر رکھے ہیں جس کے نتیجے میں پشتون بلوچ اقوام میں احساس محرومی احساس بیگانگی سرائیت کر گئی ناانصافی پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے پشتون بلوچ اقوام بیش بہا وسائل کے مالک ہونے کے باوجود دووقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں پینے کے صاف پانی تعلم صحت انفراسٹرکچر جیسے بنیادی انسانی ضروریات وسہولیات سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ڈائیلاگ ہی میں تمام مشکلات اور معاملات کا حل موجود رہتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تشدد سے انکار اور امن کے قیام کیلئے موثر آواز اٹھائی جائے سیمینار میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض گوہر ناصر ایڈوکیٹ ولید کاسی ہیبت چوکھڑو نے سر انجام دئیے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ قدرت اللہ نے حاصل کئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں