محکمہ تعلیم بلوچستان کے دو ذیلی اداروں کی آپس کی چپقلش، طلبہ کا مستقبل داﺅ پر لگ گیا
کوئٹہ (یو این اے)محکمہ تعلیم بلوچستان کے دو ذیلی اداروں کی آپسی چپقلش سے مڈل سٹینڈرڈ کے ساٹھ سے زائد طلبہ وطالبات کا مستقبل دا پر لگ گیا، کوئی پوچھنے والا نہیں ۔بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (بیک )نے ڈی ای او کوئٹہ کے دفتر سے آٹھویں کے امتحانات میں ری کانٹنگ ، رزلٹ کوریکشن سے متعلق بھیجے گئے مراسلے سرد خانے میں ڈال دیئے اور متاثرہ طلباوطالبات کو ری چیکنگ کے بعد نئی ڈی ایم سی کے اجراسے یکسر انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ڈی ای او آفس سے مطلوبہ کوائف نہیںآ تے ہم رزلٹ میں کوئی ردوبدل نہیں کریں گے ۔ بیک آفس کے ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ کے دفتر سے 14مارچ سے لے کر 30مارچ تک چھ مختلف مراسلے بیک آفس کو بھیجے گئے جن میں متاثرہ طلباکی درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ری چیکنگ اور ری کانٹنگ میں متعدد طلباکے نتائج میں غلطیاں پائی گئی ہیں لہذا ان کی درستگی کرکے مذکورہ طلباکو دوبارہ نتیجہ جاری کیا جائے مذکورہ ذرائع کے مطابق 14مارچ سے 30مارچ تک بھجوائے گئے چھ لیٹرز پر تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور پچاس سے زائد طلباوطالبات کا مستقبل دا پر لگ چکا ہے ۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق اس تاخیر کی وجہ دونوں دفاتر کے انتظامی افسران کی ذاتی چپقلش ہے متاثرہ شہری بیک کے دفتر جاتے ہیں تو انہیں ڈی ای او آفس بھیجا جاتا ہے اور ڈی ای او کے آفس سے انہیں بھیجے گئے مراسلے دکھا کر واپس کیا جاتا ہے اب یکم مارچ کو اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن کے سربراہ نے ڈی ای او کوئٹہ کو بھیجے گئے اپنے مراسلہ نمبر 6862-65میں چھ کے چھ مراسلوں کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرہ طلبہ کے اصل جوابی پرچہ جات،کانٹر فائل،حاضری شیٹ اور اصل ایوارڈ لسٹ مانگی ہے یکم اپریل کو بھیجے گئے مراسلے پر تاحال ڈی ای او کوئٹہ کے دفتر نے نہ تو کوئی جواب بھیجا ہے اور نہ ہی طلب کردہ کوائف ارسال کئے ہیں ۔ عوامی حلقوں اورمتاثرہ طلبہ کے سرپرستوں نے اس صورتحال پر شدید غم وغصے کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ طلباکا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہورہا ہے جس بھی سطح پر نتائج کی تیاری میں کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے اس کا نزلہ طلبہ پر نہ گرایاجائے اور انہیں نئے ڈی ایم سی فی الفور جاری کئے جائیں تاکہ ان کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔


