بلوچستان میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن کا احتجاج، کلاسز کا بائیکاٹ، تدریسی عمل متاثر

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے مطالبات حل نہ ہوسکے، میڈیکل کالجز بدستور بند۔ میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے مطالبات کے سلسلے میں کلاسز کا بائیکاٹ شروع کرکے احتجاجی کمیپ قائم کر رکھا ہے، 3 ہفتوں سے زائد گزرنے کے باوجود مطالبات پر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی نہ ہی کسی حکومتی ذمہ دار نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا،میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے حکومتی سردمہری پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مطالبات فوری تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج میں شدت لاکر ریڈ زون میں غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا دیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں اور حکومت کی بے حسی کی سزا غریب عوام کو نہیں دینا چاہتے لیکن حکومت ہماری شرافت کو کمزوری سمجھ رہی ہے اب ہم مجبور ہوکر سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہیں اگر مطالبات کے سلسلے میں لیت ولعل سے کام لیا جاتا رہا تو ہم دوسری ڈاکٹر تنظیموں اور پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے اوپی ڈی ایز کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کریں گے ،دوسری جانب عوامی حلقوں نے میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاج میں شدت لانے کی دھمکی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی ڈاکٹروں اور حکومت کی ہوتی ہے اور متاثر عوام ہوتے ہیں ،ریڈزون میں دھرنے سے پورے شہر میں ٹریفک متاثر ہوتی ہے اور اگر اوپی ڈیز کا بائیکاٹ کیاگیا تو بھی غریب کا نقصان ہوتا ہے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر ڈاکٹروں سے مذاکرات کرکے مسائل حل کرئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں