پاکستان کی آبادی میں 4.9 کروڑ کا اضافہ ہوا، خانہ شماری میں 34 ارب روپے خرچ ہوئے، مردم شماری کمشنر

کوئٹہ (یو این اے)ملک بھر میں تاحال حالیہ مردم شماری کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے لیکن مختلف اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین اس کے طریقہ کار اور ممکنہ نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں ملک بھر میں میں آزادی حاصل کرنے کے بعد دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر 10 سال بعد مردم شماری کروانے کا عزم کیا گیا تھاسب سے پہلی مردم شماری آزادی کے 4 سال بعد 1951 میں ہوئی تھی، 1951 سے 1981 تک پہلی 4 مردم شماریاں اپنے وقت پر ہو ئیں مگر پانچویں (1998) اور چھٹی (2017) مردم شماری تاخیر کا شکار ہوئی خبر رساں ادارے یو این اے کی خصوصی رپورٹ کے مطابق مردم شماری صرف آبادی کی گنتی کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے مسائل کا تخمینہ اور وسائل کی تقسیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے، آبادی کے تناسب سے نیشنل فنانس کمیشن این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو فنڈز مہیا کرنا اور سرکاری ملازتوں میں کوٹے بھی مردم شماری کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں اسمبلی میں نشستیں اور حلقہ بندی کا عمل بھی مردم شماری سے نتھی ہے تاہم پاکستان میں مردم شماری ہمیشہ سے ایک انتہائی متنازع امر رہا ہے اور ہر مردم شماری کے نتائج سیاست کی نذر ہوجاتے ہیں، 2017 کی مردم شماری کے نتائج بھی بری طرح تنازعات کا شکار ہوگئے تھے جس کے سبب دوبارہ مردم شماری کروانے کا فیصلہ کیا گیا، اس فیصلے پر رواں برس عمل درآمد ہوں ملک میں 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری کے 19 برس بعد 2017 میں چھٹی مردم شماری ہوئی جوکہ 2 مراحل میں مکمل ہوئی تھی، پہلے مرحلے کا آغاز 15 مارچ 2017 کو ہوا اور یہ 14 اپریل 2017 کو اختتام پذیر ہوا، دوسرا مرحلہ 10 روز کے وقفے کے بعد 25 اپریل کو شروع ہوا اور 24 مئی 2017 کو ختم ہوا 2017 مردم شماری کے لیے ادارہ شماریات نے مجموعی طور پر 16 لاکھ 8 ہزار 943 بلاکس بنائے تھے ہر بلاک اوسطا 200 سے 250 مکانوں پر مشتمل تھا، اِس مردم شماری کے حتمی نتائج مئی 2021 میں جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 20 کروڑ 76 لاکھ 84 ہزار 626 تھی اور سالانہ شرح نمو 2.40 فیصد رہی پنجاب کی آبادی 10 کروڑ 99 لاکھ 90 ہزار، سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 50 ہزار، خیبر پختونخوا کی آبادی 3 کروڑ 5 لاکھ 10 ہزار، فاٹا کی آبادی 49 لاکھ 90 ہزار، بلوچستان کی آبادی تقریبا ایک کروڑ 23 لاکھ 40 ہزار پے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ بتائی گئی۔ بڑے شہروں کی بات کریں تو 2017 کی مردم شماری کے مطابق کراچی کی آبادی 1 کروڑ 60 لاکھ 24 ہزار جبکہ لاہور کی آبادی ایک کروڑ 11 لاکھ 26 ہزار تھی نتائج کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا 63.56 فیصد دیہی جبکہ 36.44 فیصد شہری آبادی پر مشتمل تھا، مذاہب کی بنیاد پر آبادی کی کل تعداد میں 96.47 فیصد مسلمان، 1.27 فیصد عیسائی، 1.73 فیصد ہندو، 0.09 فیصد احمدی، 0.41 فیصد شیڈول ذات اور 0.02 فیصد دیگر شامل تھے۔ ڈیجیٹل مردم شماری 2023حالیہ مردم شماری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہے جو اس وقت اپنے اختتامی مراحل میں ہے، اس کا مقصد 2017 کی مردم شماری سے جڑے تنازعات کا خاتمہ اور شفاف طریقے سے آبادی کو شمار کرنا تھا جس کے نتائج پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اتفاق ہو۔ ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت خودشماری کا آغاز رواں برس 20 فروری سے ہی ہوگیا تھا جس میں شہریوں کو گھر بیٹھے ویب پورٹل کے ذریعے اپنی اور اپنے گھرانے کی معلومات کے خود آن لائن اندراج کی سہولت دی گئی تھی، بعدازاں مردم شماری کا فیلڈ آپریشن یکم مارچ سے شروع کیا گیا تھا جسے ابتدائی طور پر 4 اپریل کو مکمل ہونا تھا تاہم اس کی آخری تاریخ میں 5 بار توسیع کے بعد بالآخر 15 مئی کو اس کا فیلڈ آپریشن ختم ہوگیاتاحال حالیہ مردم شماری کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے لیکن مختلف سیاسی جماعتیں، سماجی گروہ اور ماہرین اس کے طریقہ کار اور ممکنہ نتائج پر شدید شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں، خصوصا پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی اہم اسٹیک ہولڈر سمجھی جانے والی جماعتیں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی اس بار بھی مردم شماری پر شدید تحفظات ظاہر کرچکی ہیں جبکہ سندھ کی قوم پرست جماعتیں بھی اپنی شناخت کو درپیش خطرات کا اظہار کررہی ہیں حتی کہ پیپلزپارٹی نے بھی حالیہ مردم شماری پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں گزشتہ ماہ 22 مئی کو چیف مردم شماری کمشنر اور پاکستان ادارہ شماریات کے چیف اسٹیٹسٹیشن نعیم ظفر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کی کل آبادی اب 24 کروڑ 95 لاکھ 66 ہزار 743 تک پہنچ چکی ہےصوبے کے لحاظ سے آبادی کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے ہوئے نعیم ظفر نے کہا تھا کہ پنجاب اب بھی سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جس کی آبادی 12 کروڑ 74 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ سندھ کی آبادی5 کروڑ 79 لاکھ 31 ہزار ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا کی آبادی 3 کروڑ 98 لاکھ 23 ہزار ہے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ 19 لاکھ 77 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ دریں اثنا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی تقریبا 23 لاکھ افراد پر مشتمل ہے مردم شماری کمشنر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان کی آبادی میں پچھلی مردم شماری کے بعد سے 4.9 کروڑ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے جو کہ خاطر خواہ شرح نمو کی نشاندہی کرتا ہے پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے انعقاد کی لاگت کے بارے میں کمشنر نے انکشاف کیا کہ اس کے لیے قومی خزانے سے 34 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں