بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل کرنا ہوگا، عدالتیں اور حکومتیں بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائیں، وی بی ایم پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے ماما قدیر اور حوران بلوچ کے ساتھ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وی بی ایم پی ایک غیر سیاسی تنظیم ہے، ہم تنظیمی سطح پر ملکی آئین کے مطابق بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کیخلاف گزشتہ 14 سال سے پرامن جدوجہد کرتے آرہے ہیں، تنظیم نے جبری گمشدگیوں کی روک تھام اور بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرانے کے حوالے سے عدلیہ سمیت صوبائی و وفاقی حکومتوں اور بلوچ لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائے گئے کمیشنز کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ہے۔ عدلیہ، حکومت اور کمیشنز کی سطح پر یہ ثابت بھی کراچکے ہیں کہ جبری گمشدگیوں میں ملکی ادارے ملوث ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عدلیہ، حکومتیں اور کمشینز بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے، جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرانے میں ناکام رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تمام اداروں نے بلوچ لاپتہ افراد مسئلے پر آج تک اپنے آئینی اختیارات استعمال نہیں کیے لیکن جب حکومت اور عدلیہ کے مفادات ہوں تو عدالتیں رات 12 بجے کھول کر بھی احکامات دیے جاتے ہیں اور حکومتیں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کےلیے پارلیمنٹ سے فوری طور پر قانون سازی کرتی ہیں لیکن بلوچ لاپتہ افراد مسئلہ اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے حکومتوں اور انصاف کی فراہمی کے لیے بنائے گئے اداروں کا کردار ہمیشہ شرمناک رہا ہے جسکی وجہ سے عوام کا حکومت و انصاف کے فراہمی کے لیے بنائے گئے اداروں سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں جو ملک کے بقا کے لیے نیک شگون نہیں، اس لیے حکومت، عدلیہ اور ملکی اداروں کے سربراہوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کو فوری طور یقینی بنانا ہوگا۔ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ملکی قوانین کے تحت حل کرانے اور آئین میں دیے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2018ءمیں سپریم کورٹ نے بلوچ لاپتہ افراد کے کیسز کو کمیشن کو فراہم کرانے کا حکم دیا تو ہم نے تنظیمی سطح پر مختلف اوقات میں کمیشن کو لاپتہ افراد کے کیسز فراہم کرتے رہے جو تاحال جاری ہے، تنظیم کے فراہم کردہ تقریباً چھ ہزار سے زائد کیسز پر کمیشن روزانہ کی بنیاد پر سماعت کررہا ہے۔ نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ رواں سال ایک سو پانچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے تنظیم کا پروفارمہ فل کرکے اپنے لاپتہ پیاروں کی جبری گمشدگی کے کیسز تنظیم کو فراہم کیے اور ہم نے تنظیمی سطح وہ کیسز صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت کمیشن کو فراہم کیے جن پر کمیشن نے متعلقہ پولیس تھانوں کو حکم دیا کہ ان ایک سو پانچ کیسز کی فوری طور پر ایف آئی اندارج کرے، تو کچھ لواحقین نے تو اپنے لاپتہ افراد کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آرز درج کرائے لیکن اکثریت نے اب تک ایف آئی آرز ابھی تک درج نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ تھانے تنظیم سے بار بار رابطہ کررہے ہیں، اس لیے ہم گزارش کرتے ہیں کہ رواں سال جن لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے اپنے لاپتہ پیاروں کی کیسز تنظیم کو فراہم کردیے ہیں، وہ جلد از جلد متعلقہ پولیس تھانوں سے رابطہ کرکے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آرز درج کرے اور اپنے بیانات ریکارڈ کراکے اپنے پیاروں کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے کرے اگر ایف آئی آر کے اندراج اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے میں اہلخانہ کو کوئی مسئلہ یا پھر مشکلات درپیش ہوں وہ ضرور تنظیم سے رابطہ کریں۔ جن لاپتہ افراد کے کیسز کی ایف آئی آرز درج کرانے کے حوالے سے آرڈرز ہوئے ہیں انکے نام درج ذیل ہیں۔ فدا ولد رحیم بخش سکنہ گوادر، شوکت علی ولد کال میر سکنہ گوادر، لعل بخش ولد ھادو سکنہ حب، دولت ولد محمد رمضان سکنہ حب، پندل ولد اللہ یار سکنہ کوئٹہ، محمد دین ولد محمد اسماعیل سکنہ کوئٹہ، حسین محمد ولد حاجی غلامی سکنہ کوئٹہ، شیر گل ولد فوجا سکنہ کوئٹہ، عمر مری ولد امین مری سکنہ کوئٹہ، جان محمد ولد نبی حامد سکنہ کوئٹہ، عبدالرحمن وکد گل مری سکنہ کوئٹہ، حامد ولد بہادر خان سکنہ کوئٹہ، صالح محمد ولد در محمد سکنہ کوئٹہ، مقبول ظفر ولد محمد خان سکنہ کوئٹہ، نظر جان ولد بشیر خان سکنہ کوئٹہ، محمد اعظیم ولد حاجی امیر بخش سکنہ کوئٹہ، عبدالنصیر ولد عبدالسلام سکنہ کوئٹہ، عبدالسلام ولد شمبے سکنہ کیچ، صغیر احمد ولد محمد مراد سکنہ کیچ، منیر احمد ولد محمد عمر سکنہ کیچ، عبدالباسط ولد کریم بخش سکنہ کیچ، غلام مصطفی ولد عبدالغنی سکنہ خضدار، عبدالحق ولد گل محمد سکنہ خضذار، ابن حسین ولد غلام حسین سکنہ خضدار، حمید ولد فیاض محمد، عبداللہ ولد عبدالحمید، مصطفی ولد عبدالغنی، ساجد علی ولد مولا بخش سکنہ خضدار، منظور احمد ولد رائیس محمد خان سکنہ خضدار، عمر جان ولد قاسم خان سکنہ لسبیلہ، عطاءاللہ ولد عبدالمالک سکنہ آواران، عبدالمالک ولد کریم بخش سکنہ آواران، نحمد شریف ولد فضل سکنہ آواران، الہی بخش ولد پیرک سکنہ آواران، نور بخش ولد دین محمد سکنہ آواران، اختر علی ولد منیر احمد سکنہ کیچ، عبدالمالک ولد محمد سکنہ کیچ، شاہ میر احمد ولد شبیر علی سکنہ کیچ، مولا بخش ولد عبداللہ سکنہ کیچ، شاہ میر ولد خدا بخش سکنہ کیچ، حسن ولد کمال خان سکنہ کیچ، امیر بخش ولد بابو سکنہ تربت، گل محمد ولد قیصر سکنہ نوشکی، شعیب داد ولد قادر بخش سکنہ نوشکی، ضیاءالحق ولد نیر امام بخش سکنہ نوشکی، محبوب علی ولد لونگ خان سکنہ نوشکی، محمد سمیع ولد رحمت اللہ سکنہ نوشکی، اسفند یار ولد عبدالکریم سکنہ نوشکی، خیر محمد ولد فتع محمد سکنہ بولان، نیاز علی ولد بالاچ خان سکنہ نصیر آباد، احسان اللہ ولد غیاث اللہ سکنہ چاغی، منظور احمد ولد نصیر محمد سکنہ خاران، محمد عارف ولد خدائے نظر سکنہ خاران، محمد حسین ولد محمد رحیم سکنہ خاران، عبید اللہ ولد برکت علی سکنہ خاران، ساجد علی ولد محمد حسین سکنہ پنجگور، نواز علی ولد پیر بخش سکنہ پنجگور، محمد اعظم ولد کمال سکنہ پنجگور، حاصل ولد صالح محمد سکنہ پنجگور، شبیر احمد ولد عید محمد سکنہ پنجگور، محمد امین ولد شیر محمد سکنہ گوادر، فضل الرحمن ولد عبداللہ سکنہ کوئٹہ، خیراللہ ولد عبداللہ سکنہ کوئٹہ، حاجی جان علی ولد سونا خان سکنہ کوئٹہ، بادل خان ولد جوانسال سکنہ کوئٹہ، جوانسال ولد ازل خان سکنہ کوئٹہ، سراج ولد محمد قاسم سکنہ کوئٹہ، محمد سلیم ولد محمد کریم سکنہ کوئٹہ، جان محمد ولد عبدالرحیم سکنہ کوئٹہ، اویس احمد ولد علی نواز سکنہ کوئٹہ، غلان جان ولد بابو سکنہ کوئٹہ، محمد اسحاق ولد عبدالرزاق سکنہ کوئٹہ، محمد خان ولد دولت خان سکنہ کوئٹہ، عصمت اللہ ولد شیر زمان سکنہ کوئٹہ، چنگیز خان ولد علی محمد سکنہ خضدار، میر حسن ولد علی محمد سکنہ خضدار، ظہوراحمد ولد عمر محمد سکنہ مستونگ، نورز خان ولد حاجی خان سکنہ مستونگ، نور اللہ ولد جان محمد سکنہ مستونگ، عبدالرحیم ولد غلام حسین سکنہ مستونگ، لال محمد ولد پل خان سکنہ سبی، دولت شاہ ولد رمضان شاہ سکنہ سبی، سفر علی ولد قادر بخش، علی خان ولد خدا بخش سکنہ چمن، غلام نبی ولد صالح محمد سکنہ لسبیلہ، عبدالواہاب ولد حبیب بلوچ سکنہ پنجگور، راشد علی ولد عبدالرشید سکنہ پنجگور، حفیظ اللہ ولد نواب علی سکنہ پنجگور، نور اللہ ولد جمال دین سکنہ پنجگور، نواب ولد قادر داد سکنہ پنجگور، باسط ولد خالد سکنہ پنجگور، نصیر خان ولد عبدالکریم سکنہ قلات، عبدالکریم والد فقیر داد سکنہ آواران، محمد حسن ولد عرضی سکنہ آواران، عبدالوحید ولد منظور احمد سکنہ بولان، طاہر ولد سادو سکنہ تربت، اسد عزیز ولد جاڈو سکنہ تربت، پیر بخش ولد محمد اسلم سکنہ مستونگ، محبوب عزیز ولد عبدالحلیم سکنہ مستونگ، عبدالحکیم ولد جمعہ خان سکنہ مستونگ اور کفایت اللہ ولد بشام خان سکنہ مستونگ کے نام شامل ہیں۔


