اتحادی جماعتوں کی سیاسی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید سے بے یقینی پیدا ہوگی، احسن اقبال
نارووال(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی سیاسی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید سے بے یقینی پیدا ہوگی، ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔نارووال میں تعمیراتی ڈویژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اتحادی حکومت وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کرنے کی کوشش کررہی ہے، اتحادی حکومت کے کچھ فائدے اور کچھ نقصانات بھی ہوتے ہیں، فیصلہ سازی کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے میں وقت لگتا ہے لیکن ان فیصلوں کو وسیع البنیاد حمایت حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ہمیشہ ہر اتحادی جماعت کو ہر فیصلے میں شریک کیا ہے، پالیسی سے متعلق اہم فیصلوں میں تمام جماعتیں شریک ہوتی ہیں، بجٹ کی تیاری اور کابینہ سے منظوری میں بھی تمام جماعتیں شریک تھیں۔اانہوںنے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ہماری اتحادی جماعتوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ سیاسی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید کی جائے گی تو بے یقینی پیدا ہوگی، اگر آپ کی کوئی شکایات ہیں تو وزیراعظم نے ہمیشہ ان شکایات کو دور کیا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں جلسوں میں باتیں کرنے سے ہرہیز کرنا چاہیے اور کابینہ کے اندر بیٹھ کر اپنا موقف رکھنا چاہیے تاکہ ہم ملک میں کسی سیاسی غیریقینی کو فروغ نہ دیں جو عمران خان کا شیوہ تھا، ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان ابھی خطرات سے پوری طرح نہیں نکلا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے اتحادیوں کو مسلم لیگ (ن)سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں، بسا اوقات ہم مسلم لیگ (ن)والے شہباز شریف سے شکایت کرتے ہیں کہ آپ اتحادیوں کو ہم سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، وہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ ملک کے حالات کے پیش نظر ہمیں اس گلدستے کو سنبھال کر رکھنا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ میں جج صاحبان سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا آپ اپنی گاڑی کی چابی کسی اناڑی کے ہاتھ میں دیں گے؟ ان لوگوں نے ایک ناتجربہ کار اور اناڑی شخص کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دے کر ملک وزیراعظم بنادیا تھا۔وفاقی وزیرمنصوبہ بندی نے کہا کہ اس شخص نے ذاتی نفرتوں اور انتقامی کارروائیوں کے سوا 4 برسوں میں کوئی منصوبہ نہیں بنایا، گزشتہ حکومت کو پاکستان کے عوام کو لوٹنے کا پرمٹ ملا ہوا تھا، نتیجتاً پاکستان سے تمام سرمایہ کار دوڑ گئے اور ترقی کے تمام منصوبے بند ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان اس حالت میں ملا کہ پاکستان کی معیشت سسک سسک کر دم توڑ رہی تھی، ملکی معیشت چیئرمین پی ٹی آئی کی اناڑی ڈرائیونگ اور ناتجربہ کاری کے سبب تباہ و برباد ہوچکی تھی۔ان ہوںنے کہا کہ اس صورتحال میں مسلم لیگ (ن)اقتدار نہ سنبھالتی تو گزشتہ برس مئی، جون تک پاکستان دیوالیہ ہوچکا ہوتا، اگر پاکستان سری لنکا جیسے حالات پیدا ہوجاتے تو ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوجاتی اور لوگ موجودہ مہنگائی کو بھول جاتے۔احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے پاس 2 راستے تھے کہ ہم اپنی سیاست بچالیں یا معیشت کو بحال کرنے کے لیے اپنا قومی فرض ادا کریں، ایسا کرنے کی صورت میں اگر ہماری سیاست اور مقبولیت پر کوئی حرف آئے تو اسے بھی قبول کریں۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ اس دھرتی ماں کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے، آج الحمداللہ ایک برس سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ہم نے پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دیا، ہم نے صرف معیشت کو بحال ہی نہیں کیا بلکہ ان منصوبوں کو بھی دوبارہ فعال کیا جن پر پی ٹی آئی حکومت میں بریک لگادی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان آہستہ آہستہ دوبارہ ترقی کی جانب اپنا رخ متعین کررہا ہے، ہم نے پاکستان کے لیے روڈ میپ تیار کرلیا، آج ہمارے پاس 5 ایز فریم ورک ہے جس میں ایکسپورٹس ہیں، ای-پاکستان ہے، انوائرمنٹ ہے، انرجی ہے اور ایکوئٹی اور امپاورمنٹ ہے۔انہوںنے کہا کہ اس روڈ میپ پر اگر ہم آئندہ 3 سے 4 برسوں تک کمربستہ ہوکر عمل کرلیں تو 2035 تک پاکستان ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے، اس کا مطلب ہوگا کہ پاکستان میں ہم غربت کو بہت نیچے لے آئیں گے اور بیروزگاری ختم ہوجائے گی، نوجوانوں کی صلاحیت کا فائدہ اٹھا کر پاکستان دنیا میں ایک انفارمیشن پاور کے طور پر پہچانا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ پوری دنیا پاکستان کی طرف سی پیک کے حوالے سے متوجہ ہورہی تھی، پاکستان دنیا کے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن رہا تھا، 2018 کی تبدیلی پاکستان کے عوام کیلئے ڈرائونا خواب بن گئی۔انہوں نے کہا کہ ایک اناڑی اور ناتجربہ کار کو صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ دیا گیا، اس نے اپنے سرپرستوں اور ڈونرز کو بنی گالہ میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے کھلی چھٹی دی، پاکستان کے عوام کو لوٹنے کا پرمٹ دیا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان سے تمام سرمایہ کار دوڑ گئے، ترقی کے تمام منصوبے بند ہوگئے۔احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں 11 ہزار میگاواٹ بجلی کے نئے ریکارڈ منصوبے لگے، 4 سال کے عرصے میں 2 ہزار کلومیٹر کی موٹرویز کا جال بچھایا گیا، ہم پاکستان کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، ہم پاکستان میں ترقی کے منصوبوں کو دوبارہ چالو کر رہے ہیں، پاکستان اب دوبارہ ترقی کی طرف اپنا رخ متعین کر رہا ہے، ہم نے پاکستان کو دیوالیہ نہیں ہونے دیا، پاکستان کیلئے روڈ میپ تیار کرلیا ہے ۔


