زمینوں پر قبضہ اور والد کو قتل کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے، سندھ کی رہائشی خاتون کا مطالبہ
کوئٹہ (آن لائن) میرپور کی رہائشی ارباب جویا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی زمینوں پر قبضے اور گھر پر حملے میں ملوث بااثر قبائلی رہنماﺅں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ 2017ءمیں میرے والد کو پتہ چلا کہ ہماری زمینوں پر قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد میرے والد زمین پر گئے تو علاقے کے قبائلی رہنما کے بندے بیٹھے ہوئے تھے اسوقت اسسٹنٹ کمشنر نے زمین کا قبضہ میرے والد کو دلوانے کی کوشش کی تاہم اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا اور قبائلی شخصیت کی جانب سے ہمارے والد اوردیگر گھروالوں پر تین جان لیواز حملے کئے گئے جس میں میرے والد شدید زخمی اور بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ان ظالمانہ حملوں کے بعد میری بہن خیرالنساءکو اغوا کرلیا گیا تو ایک سال تک اغواءکاروں کے پاس رہی جب ہم نے ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی تو با اثر شخصیات کے دباﺅ کی وجہ سے ایف آئی آردرج نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا اور علاقے کے بااثر افراد اتنے طاقتور ہیں کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے ہمیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ اور دیگر حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری زمینوں پر قبضہ کرنے اور میرے والد کے قتل میں ملوث قبضہ مافیا اور بااثر افراد کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔


