بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلال کاکڑ

کراچی / کوئٹہ ( آن لائن) بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے امن و امان کی صورتحال کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اس قدر خراب نہیں جس طرح بعض اوقات میڈیا میں اس کی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبہ سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جبکہ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد عناصر کے خلاف مثر کارروائیاں کر رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں ان کارروائیوں کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے دفتر کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر FPCCI کے صدر عاطف اکرام شیخ، چیئرمین ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین سمیت فیڈریشن کے دیگر ارکان اور عہدیداران بھی موجود تھے۔بلال خان کاکڑ نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں، صوبائی حکومت کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے کردار اور جاری و زیرِ غور سرمایہ کاری منصوبوں کے حوالے سے شرکا کو تفصیلی آگاہ کیا۔انہوں نے ملک بھر کی تاجربرادری کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور قدرتی وسائل، معدنیات، ساحلی پٹی، گوادر پورٹ، زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز، سیاحت اور قابلِ تجدید توانائی سمیت متعدد شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری کے مواقع رکھتا ہے۔ حکومت بلوچستان ان مواقع کو معاشی سرگرمیوں، روزگار اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری سہولت کاری اور نجی شعبے کے اعتماد کی بحالی کو خصوصی ترجیح دی ہے۔ حکومت کا مقصد سرمایہ کاروں کو محفوظ، شفاف اور کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار بلوچستان کی حقیقی معاشی صلاحیت سے استفادہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کئی اہم منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے، جن میں شرمپ فارمنگ، فشریز، معدنیات، توانائی، صنعتی زونز، آئل ری سائیکلنگ، میڈیکل و نرسنگ تعلیم اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ گڈانی میں شرمپ ہیچری اور ڈمب، لسبیلہ میں شرمپ فارمنگ منصوبہ بلوچستان کے ساحلی وسائل کو معاشی سرگرمیوں میں تبدیل کرنے کی عملی مثالیں ہیں۔وائس چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے منفی تاثر کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تجارتی، صنعتی، تعلیمی، سیاحتی اور ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں اور صوبے میں کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے والے سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک دشمن اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مثر کارروائیاں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا ہے۔ حکومت بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کے قیام کے لیے مربوط اقدامات کر رہے ہیں تاکہ عوام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو بھی محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ سرمایہ کاروں کو منصوبوں کے انتخاب، متعلقہ محکموں سے رابطے، اجازت ناموں اور دیگر ضروری معاملات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ون ونڈو اور ڈیجیٹل سہولت کاری کے نظام کو مزید مثر بنا رہا ہے۔ بزنس فسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے سرمایہ کاروں کو رجسٹریشن، سرٹیفکیٹس، لائسنسز اور دیگر اجازت ناموں کے حصول میں آسانی فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس موقع پر FPCCI کے صدر عاطف اکرام شیخ اور چیئرمین ایڈوائزری بورڈ میاں زاہد حسین نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری روابط کے استحکام اور نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں