جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنا اختلافی نوٹ عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر اردو میں جاری کردیا
لاہور (آن لائن) جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت عظمی میں اپنا اختلافی نوٹ عدالت عظمی کی ویب سائٹ پر اردو میں جاری کردیا۔ اردو زبان میں ہونے کے باعث ہر پاکستانی کو اردو پڑھنی جانتا ہے وہ اس نوٹس کو پڑھ کر اپنی رائے دے سکتاہے’ نتیجہ اخذ کرسکتا ہے’ یہی نوٹس انگریزی میں ہوتا تو کبھی بھی عوامی مقبولیت حاصل نہ کرسکتا’ نہ ہی عوامی دلچسپی کا باعث بن سکتا ‘قومی زبان اردو تحریک کی محرک فاطمہ قمر نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ ‘ جسٹس فائز عیسی دونوں لائق تحسین ہیں جو پاکستان کی اعلی عدالت میں اپنا مقدمہ قومی زبان میں لڑ رہے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ اردو قانون کی بھی زبان ہے’ جب مقدمہ لڑنے والے ‘ مقدمہ سننے والے سب پاکستانی ہیں تو ان کے مقدمے کی قانونی کارروائی انگریزی میں ہونا سب سے بڑی ناانصافی اور عدل کے بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ یہ دونوں معزز جج صاحبان اس تین رکنی بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے آٹھ ستمبر 2015 کو نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کیا!۔


