بلوچستان میں انتخابات خونی ہوں گے، بیٹے پر بم دھماکہ کرنیوالے کوئٹہ میں آزاد گھوم رہے ہیں، سردار یار محمد

کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان کے بزرگ سیاستدان سابق وزیرتعلیم سردار یار محمد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آئندہ انتخابات خونی ہونگے کچھ لوگوں کو لانے کیلئے ابھی سے انتظامی آفیسران ان کے مرضی کے لائے جارہے ہیں تاکہ اگر آئندہ انتخابات ہوبھی گئے انہیں جتوا سکیں میرے بیٹے پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کوئٹہ میں سر عام پھیر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بولان میں سیلاب سے متاثرہ پنجرہ پل کیلئے وفاقی حکومت نے ضرور رقم رکھی ہے لیکن مجھے امید نہیں کہ وہ بن جائے حالانکہ اگر اسٹیل پل بنائی جائے تو یہ کامیاب پل ہوگا لیکن حکمرانوں کا یہاں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے سیلاب متاثرین کو امداد ضرور ایک تھیلا آٹا ملا ہوگا لیکن نہ تو راستے بحال کئے گئے اور نہ ہی ایریگیشن نظام کو بحال کیا گیا ہے۔ سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے پر ریموٹت کنٹرول بم دھماکہ ہوا جس میں اس کا ایک گارڈ جاں بحق اور کچھ زخمی ہوگئے ایف آئی آر میں نا مزد ملزمان کوئٹہ میں سر عام گھوم پھیر رہے ہیں انہیں کوئی گرفتار نہیں کیا جارہا ہے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ آئندہ انتخابات سے قبل میرے حلقہ انتخاب میں میرے مخالفین کے ایما پر انتظامی آفیسران کو تعینات کیا جارہا ہے تاکہ انتخابات کی صورت میں مجھے ہرا یا جاسکے اگر انتخابات ہو بھی گئے تو خونی ہونگے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ بولان کے علاقے میں آئے روز سیکورٹی فورسز پر حملے ہوتے ہیں میں تو ایک سویلین ہو زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے مخالفین کی کوشش ہے کہ مجھے کسی طرح راستے سے ہٹا یا جائے لیکن اللہ نے مجھے ابھی تک زندگی دی ہے سیلاب کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سردار یار محمد رند کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل سیلاب آیا وہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے سیلاب متاثرین میں ضروری آٹے کے تھیلے تقسیم کئے لیکن اس کے بعد نہ وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی امداد ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت کی طرف سے آمداد دیا گیا ہے اور نہ ہی نیشنل ہائی وے کو بنا یا جاسکا جبکہ ایری گیشن کے نظام کو بھی ابھی تک بحال نہیں کیا جاسکا ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سیلاب متاثرین کے علاقوں میں سیاسی بنیادوں پر دو این جی اوز ٹرکوں کے حساب سے امدادی سامان لا کر اپنے من پسند لوگوں میں تقسیم کرتے جبکہ سیلاب متاثرین انہیں دیکھتے ہی رہ گئے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں