کوئٹہ میں انتہائی کم وزن پاپڑ نما روٹیوں کی مہنگے داموں فروخت، انتظامیہ کی چشم پوشی
کوئٹہ (آئی این پی) صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میںپا پڑ نما روٹیوں کا فروخت عروج پر ،انتہا ئی کم وزن والی سنگل روٹی کی قیمت 30جبکہ ڈبل روٹی کی قیمت 60روپے وصول کی جا رہی ہے البتہ انتظامیہ کا کردار خاموش تما شائی سے زیا دہ نہیں ، اعتراض کر نے والے کو جو کر نا ہے کر لیں جیسے عزت افضا ءجملوں سے رخصت کر دیا جا تا ہے عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اس بابت ایکشن لینے کا مطا لبہ کر دیا ہے ۔تفصیلا ت کے مطابق صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ کے وسطی اور مضافاتی علاقوں میں کم وزن روٹیاں فروخت کر نااب جرم ہی نہیں رہا تندور ما لکان انتہا ئی کم وزن والی سنگل روٹی 30روپے جبکہ ڈبل روٹی 60روپے میں فروخت کر رہے ہیں مگر کو ئی ان سے پوچھنے والا نہیں ، یہی نہیں دن اور رات کے اوقات میں بھی روٹی کے وزن میں زمین آ سمان کا فرق ہوتا ہے دن کے وقت تندور ما لکان روٹی کی وزن کچھ بڑھا دیتے ہیں تا کہ چھا پے کی صورت میںوارننگ تک ہی معاملا ت رہے جبکہ رات کے وقت تو بڑی دیدہ دلیری سے پاپڑ نما روٹیاں فروخت کی جا رہی ہے سب سے زیا دہ صورتحال عالمو چو ک ،نواں کلی ، خروٹ آباد ، سریا ب روڈ ، پشتون آبا د جیسے نواحی علا قوں میں خرا ب ہیں جہاں شاز و نا در ہی تندور کی صفائی یا پھرپیڑے کا وزن چیک کیا جا تا ہے ،اکثر تندوروں میں تو کا م کر نے والے افراد کی اپنی ذاتی صفائی نہ ہو نے کے برا بر ہو تی ہیں بلکہ تندور میں آٹا گوندھنے اور دیگر کی صفا ئی چیک کی جا ئے تو بندہ چکرا جا ئے مگر اس تمام تر صورتحال کے با وجو د ضلعی انتظامیہ کی جا نب سے کو ئی ایکشن نہیں لیا جا رہا اور کو ئٹہ شہر کے لو گ ملک بھر سے زیا دہ مہنگی اور کم وزن والی روٹی کھا نے پر مجبور ہیں ، پہلے تو گا ہک روٹی کے کم وزن پر اپنی عزت بچا نے کی خا طر اعتراض نہیں کر تے جو لو گ اعتراض کر تے ہیں انہیں جا ﺅ جو کر نا ہے کر لو کو ئی ہما را کچھ نہیں بگاڑ سکتا جیسے عزت افضا جملوں سے رخصتی کی جا تی ہے عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ خداراہ اس صورتحال کانوٹس لیں تا کہ انہیں مقررہ وزن کی روٹی میسر آ سکے اور حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی بھی نہ ہو ۔


