ضلع ہرنائی میں تخریب کاری کا خاتمہ اور عوام کو جان و مال کا تحفظ دیا جائے، احتجاجی دھرنے کے شرکاءکا مطالبہ
کوئٹہ (آن لائن) ضلع ہرنائی پر مسلط تخریب کاری ، بھتہ خوری، بدامنی کے خاتمے، عوام کی جان و مال، تجارت و کاروبار کی تحفظ ،امن کے قیام اور کوئٹہ ہرنائی شاہراہ پر چپر رفٹ اور مانگی کے مقامات ہر ٹرکوں کو جلانے و کروڑوں روپے کے نقصانات کے تاوان کی ادائیگی کی مطالبات کیلئے مختلف سیاسی پارٹیوں ،عوامی نمائندوں، قبائلی عمائدین اور ٹرانسپورٹ و تاجر تنظیموں کی جانب سے ھرنائی عوامی اتحاد کی پلیٹ فارم سے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں شاھرگ میں احتجاجی مظاہرہ اور حلسہ عام منعقد ہوا ۔جلسہ عام سے نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر ااحمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر ولی داد میانی،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے ضلعی ایگزیکٹیو کے ممبران لعل محمد خوستی، حفیظ اللہ ،جمعیت علمائے اسلام کے تحصیل امیر مولوی حسن شاہ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی خوشحال کے ضلعی ارگنائزر عبداللہ خان لالا، پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی کمیٹی کے ممبر ساجد میانی، قبائلی رھنما ملک مہراللہ ترین، ٹرک یونین کے نمائندے عبدالحق میانی، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے ملا عطا محمد، سیاسی کارکن ذاکرشاہ، مزدور نمائندہ گوھرعلی اور محمد عارف میانی، مولوی زائد شاہ نے خطاب کیا۔مقررین نے ضلع ھرنائی میں کول مائینز، مزدوروں، تاجروں ، ٹرانسپورٹرز اور عوام پر مسلط تخریب کاری ، بھتہ خوری ، بدامنی اور ٹرکوں کو جلانے و نقصان پہنچانے کی ذمہ داری ریاست و اس کے اداروں اور سیکورٹی فورسز پر عائد کرتے ھوئے کہا کہ یہ امر انتہائی قابل تشویش اور قابل مذمت ھے کہ ضلع میں تخریب کاری اور بھتہ خوری کے واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہے اور ماہانہ کروڑوں روپے کا بھتہ وصول کیا جارہاہے اور ٹرکوں کو جلانے سمیت گزشتہ 8 سال کے دوران 70 سے زائد سیاسی کارکنوں ، ٹھیکداروں، مزدورں، ڈرائیوروں کو قتل اور کروڑوں روپے کی مشینری جلائی گئی ہے جبکہ اس تخریب کاری اور بھتہ خوری کے واقعات میں ملوث عناصر کو اج تک نہ تو گرفتار کیاگیا ھے اور نہ عدالتوں میں پیش کیا گیا ھے کیونکہ یہ گھنانا عمل ریاستی سرپرستی میں جاری ھے۔انہوں نے کہا کہ ضلع میں ڈاکہ زنی، گاڑیوں کی چوری اور دیگر جرائم شروع کرکے اس کے ذریعے عوام کو دہشت زدہ و خوفزدہ کیا جارھا ھے اور ضلع میں ملکی ائین و قانون کو مکمل ختم کرکے سول انتظامیہ مفلوج اور لاقانونیت کی اذیت ناک صورتحال مسلط ھے ۔مقررین نے کہا کہ ضلع ھرنائی سے متعلق تخریب کاری و بھتہ خوری اور بدامنی پھیلانے کی عوام دشمن پالیسی ترک کی جائے جس سے ضلع میں تمام جرائم کا مکمل خاتمہ ہوگا اور امن و امان کا قیام ممکن ہوگامقررین نے واضح کیا کہ اس اذیت ناک صورتحال میں ضلع میں زندگی اور تجارت و کاروبار ناممکن ہے جس کیلئے عوام کی جمہوری احتجاج اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا اولین فریضہ اور مجبوری بن چکی ہے جس کیلئے سیاسی پارٹیوں ، عوامی نمائندوں‘قبائلی عمائدین اور کاروباری تنظیموں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے ہرنائی عوامی اتحاد کی پلیٹ فارم سے موجودہ تحریک شروع کی ہے اور سیاسی پارٹیوں کی مرکزی و صوبائی قیادت سے رابطہ کرکے جمہوری احتجاج کو کوئٹہ سمیت دوسرے اضلاع میں شروع کیا جائے گامقررین نے مطالبہ کیا کہ تخریب کاری ‘بھتہ خوری‘ بدامنی کا مکمل خاتمہ کرکے ضلع ہرنائی سے متعلق کمشنر سبی ڈویژن کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات اور فیصلے پر عملدرامد کیا جائیں اور عوام کی جان و مال کی تحفظ کو یقینی بناکر ائین و قانون کی حکمرانی قائم کی جائیں اور ٹرکوں کے نقصانات کا تاوان ادا کرکے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے۔ھرنائی عوامی اتحاد کی اپیل پر8 جولائی بروز ہفتہ ضلع ہرنائی میں اپنے مطالبات کے حق میں مکمل شٹرڈاون ہڑتال ہوگی جبکہ احتجاجی تحریک کے کمیٹی کا اجلاس ,9 جولائی بروز اتوار صبح 10بجے میونسپل کمیٹی ھرنائی میں ھوگا جس میں احتجاجی تحریک کے ائندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔


