ملازمتیں اور مراعات بلوچستان کے عوام کو نہیں دی جاتیں، عوام دشمن پالیسیاں ترک کی جائیں، ہدایت الرحمن

تربت (نمائندہ انتخاب) حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کیچ کا تفصیلی تنظیمی دورہ کیا اور تنظیمی عہدیداروں سے مشاورت کی اورمختلف شخصیات کی وفات پر تعزیت کی ،حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ کیچ میں حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے سینئر رہنما دلمراد پلیزئی کی رہائش گاہ میری بگ پر ان کی والدہ محترمہ کی وفات پر تعزیت کی، ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر نزیر احمد گورگیج کی وفات پر آبسر میں طارق گورگیج کے گھر میں تعزیت کیا،اس دوران حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے تمام سینئر سرکردہ رہنما ان کے ہمراہ تھے،بعد میں حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے مشاورتی کونسل کے سینئر سرکردہ رہنما¶ں کے ساتھ ایک اہم اجلاس بھی کیا گیا اجلاس میں حق دو تحریک بلوچستان کیچ کے ضلعی کابینہ کے اراکین کے علاوہ مشاورتی کونسل کے تمام سینئر سرکردہ رہنما¶ں نے شرکت کی اجلاس میں تنظیمی تحریکی امور علاقائی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں بارڈر امور پر حکام بالا کی عدم توجہی غریب عوام کی روزگار پر قدغن کنٹرول سرمایہ دارانہ نظام کی غریب مزدور عوام کی روزگار پر قبضہ کرنے پر قائد تحریک اور رہنما¶ں نے شدید تحفظات کا اظہار کیااجلاس میں بلوچستان میں بلوچ اقوام کو درپیش مختلف سنگین عوامی مسائل اور انسانی زندگی سے متعلق اہم ترین ایشوز کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حق دو تحریک بلوچستان روز اول سے بلوچ قوم پر ظلم و جبر، بلوچ مزدور عوام کی روزگار پر قدغن چاہے بارڈر کی شکل میں یا سمندر کی شکل میں ہو جس پر ناجائز مقتدر قوتوں کی قبضہ گیری بھتہ خوری کے خلاف تھا آج بھی ہیں غریب مزدور بیچارے دن رات شدید مشقت سے مزدوری کرتے ہوئے خسارے میں ہیں سرمایہ دار پیداگیر جاگیردار ٹولہ ٹوکن سسٹم سے مستفید ہو رہے ہیں جس کو ہم بلوچ مزدور کش پالیسی تصور کرتے ہیں جس کے خلاف بھرپور مزاحمت کیا جائے گا ہم امید کرتے ہیںکہ ڈسٹرکٹ کیچ میں تعینات نئے ڈپٹی کمشنر تمام معاملات کو سمجھتے ہوئے بہتری کی طرف لانے کی کوشش کریں گے ڈسٹرکٹ کیچ کی ماضی کے تمام روایتی کراسنگ پوائنٹ جو بلاوجہ بغیر کسی مصلحت کے تحت بند کر دئیے گئے ہیں انہیں کھول کر عوام کو آزادانہ طور پر روزگار مزدوری کرنے دیا جائے گا اگر مزید ملازمتیں اور مراعات بلوچستان کے عوام کو نہیں دی جاتی تو انہیں اپنے قدیم تاریخی روزگار سے محروم رکھنا بہت بڑی زیادتی ہے یہاں ساحل وسائل کو اہمیت دی جاتی ہیں مگر ان کی باسیوں کو نہیں،اکسیویں صدی میں دنیا چاند تک پہنچ چکی ہے جبکہ بلوچ عوام نان شبینہ کا محتاج ہے انسانی زندگی کیلئے ضرورت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں آج انہیں اپنے مرضی کے مطابق مزدوری کرنے کی اجازت نہیں ہیں اپنی سرزمین پر بلوچ قوم کی روزگار کے ذرائع جو بلوچ اپنے قیمتی جان کو ہتھیلی پہ رکھ کر سمندر جاکر گہرے پانی کے لہروں سے ٹکراتی ہیں جسے ٹرالروں کے ذریعے تباہ کردیا گیا ہے بارڈر ٹوکن سسٹم کنٹرول کی وجہ سے آج بلوچ مزدور اجتماعی خودکشی کرنے پہ مجبور کیوں ہیں جسے سرمایہ دار پیدا گیر جاگیردار افسر شاہیوں نے اپنے قبضہ میں رکھ کر کرپشن بھتے کی رقم سے اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں اصل دھرتی کے وارث دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں کرپشن عروج پر ہیں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے انہیں ریلیف دینا اپنی جگہ آزادانہ طریقے سے مزدوری کرنے بھی نہیں دیاجارہاہے ہم مطالبہ کرتے ہیںکہ مقتدر قوتیں حکام بالا سنجیدگی کا مظاہرہ کریں عوام دشمن پالیسیوں کو ترک کر دیں جو حقوق ہر انسان کو حاصل ہیں انہیں نہ چھینا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں