کوئٹہ میں موبائل فون ،موٹرسائیکل اور نقدی چھیننا معمول بن گیا،خواتین بھی محفوظ نہیں

کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موبائیل فونز،موٹر سائیکلز، نقدی اور خواتین سے پرس چھین کر پلک جھپک میں گم ہو جانے والے بائیکرز نے ان دنوں سڑکوں پر اپنا راج قائم کر رکھا ہے کوئٹہ شہر میں موٹر سائیکل پر جوڑی کی صورت میں سوار ان مصلح نوجوانوں نے شھر کے ہر علاقے کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے. ہتا کہ شھر کے پوش علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی ہے لیکن یہ بائیکرز اب تک سینکڑوں افراد سے موبائیل اور نقدی چھین جانے میں کامیاب ہو رہے ہیں لٹنے والوں مین ایک بڑی تعداد ان نوکری پیشہ افراد کی بہی شامل ہے جو صبح سویرے نکلتے اور شام دیر سے گھر لوٹتے ہیں. حالیہ دنوں میں کوئیٹہ میں گرمی کی تعطیلات گزارنے والوں کی ایک بڑی تعداد بہی ان بائیکرز سے لٹ چکی ہے، جیسا کہ یہاں آنے والے کوئیٹہ کو ایک پر سکون شھر سمجھ کر بازار اور دیگر مقامات پر پھرتے رہتے ہیں، لیکن کھلاڑیوں ایسے لوگ آسانے سے ان بائیکرز کا شکار بنتے ہیں. نیز یہ کہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر وارداتیں کرنے والے ان جتھوں نے خواتین سے پرس جھین کر بھاگنے کی متعدد وارداتیں کر رکھی ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ کوئٹہ پولیس اس وجہ سے نیرو کی طرح بانسری بجا کر سکون سے سو رہی ہے کہ، ان وارداتوں میں سے پانچ فیصد وارداتیں بہی رپورٹ نہیں ہوتیں. عوامالناس نے آئی جی پولیس اور سی سی پو کوئٹہ سے اپیل کی ہے کے ایگل اسکواڈ سمیت دیگر پیٹرولنگ پولیس کا گشت بڑہا کر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ان مجرموں اور بائیکرز کا پتہ لگایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں