خضدار یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج سے تدریسی عمل معطل ہوگیا، مسئلے کے حل کیلئے کمیٹی بنائی جائے، بیوٹا

خضدار (بیورو رپورٹ) جوائنٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈاٹیکنالوجی خضدار کے رہنماءو چیئرمین ٹیچرز ایسوسی ایشن (بیوٹا) نجی اللہ، جنرل سیکرٹری جاوید مینگل، رہنماءجوائنٹ ایکشن کمیٹی و چیئرمین آفیسر ایسوسی ایشن (بی یو ای ٹی) محمد انور بلوچ، وائس چیئرمین محمد ابراہیم عمرانی، جنرل سیکرٹری عبدالوہاب عمرانی، رہنماءجوائنٹ ایکشن کمیٹی و صدر ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن اور تاج ثناءجنر ل سیکرٹری نے کہا ہے کہ انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار میں انتظامیہ اور طلباءکے درمیان جاری تنازعہ سے نہ صرف طلباءکی تعلیم اور وقت ضائع ہورہا ہے بلکہ یونیورسٹی کی بھی ملکی سطح پر بدنامی ہورہی ہے۔ تدریس کا عمل رک چکا ہے، چانسلر گورنر بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباءکے درمیان جاری تنازعہ کے حل کے لئے کمیٹی تشکیل دیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے تمام فریقین اپنا کردار بہتر انداز میں ادا کرکے ایک عظیم تعلیمی ادارے کو نقصان سے بچائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار کے رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں طلباءاور انتظامیہ کے درمیان کچھ معاملات پر تنازعہ چل رہا ہے، ردعمل میں طلباءبھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے پورا نظام جام ہو کر رہ گیا ہے جبکہ طلباءجو ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ان کا قیمتی وقت و سال ضائع ہورہا ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ ادارے کی ساکھ کو ملکی سطح پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ گو کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباءکے درمیان جاری تنازعہ کے حل کے لیے سیاسی و سماجی طبقہ سے تعلق رکھنے والے معززین نے کئی بار کوششیں کیں، اس دوران انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان معاہدے بھی ہوئے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے طلباءنے پھر سے احتجاج شروع کیا اور یونیورسٹی میں درس و تدریس کا تسلسل رک گیا۔ طلباءایکشن کمیٹی کے ذمہ داران نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں اساتذہ کرام، طلبا، ایمپلائز سب نے بنیادی کردار ادا کیا مگر افسوس اب ادارے کی ساکھ کو ملکی سطح پر نقصان پہنچایا جا رہا ہے، بد قسمتی یہ ہے کہ جن جن اساتذہ کرام کو باہر پی ایچ ڈی کروائی جاتی ہے انہیں بعد میں یہاں انتظامی پوسٹوں پر تعینات کرکے اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد ان کی صلاحیتوں سے طلباءکو مستفید کروا دیتے بہرحال بہت سے معاملات ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنر بلوچستان چونکہ انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے وائس چانسلر بھی ہیں اور تعلیم دوست انسان بھی اس لئے انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے مشترکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران ان سے اپیل کرتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ اور طلباءکے درمیان جاری تنازعہ کے حل کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں وہ کمیٹی طلباءانتظامیہ کے مابین جاری کشیدگی کو ختم کر کے فوری طور پر انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کو اس غیر یقینی کی کیفیت سے نکال کر درس و تدریس کا عمل شروع کروائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں