خان آف قلات وڈھ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، ماما قدیر بلوچ
کوئٹہ (یواین اے) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی قیادت میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قائم طویل بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے، گوادر سے سیاسی و سماجی کارکنان ماجد بلوچ، خیر محمد بلوچ، منظور بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔ کیمپ آئے وفد سے گفتگو میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں مقتدر حلقوں کے مظالم سے ہر ذی شعور انسان آگاہ ہے کہ کس طرح آئے روز بلو چ نوجوانوں بزرگوں کے جبری گمشدگی اور مسخ شدہ لاشوں کے ذریعے انسانیت کی دھجیاں اڑئی جارہی ہیں، مظالم کی ایسی داستانیں کہ انسانیت کانپ جاتی ہے، ایک دن میں ڈیرہ بگٹی سے تیس کے قریب بگٹیوں کو جبری اغوا کیا گیا۔ ماما قدیر نے کہا کہ آج بلوچ بھی انہی تاریخی بدسلوکیوں اور عالمی استعمار کے ظلم کا شکار ہے، جہاں انسانیت سوز ظلم و جبر کی طرف سے عطا کردہ حق کی لڑائی میں بلوچیت کے لبادے میں خود سر دانشور بھی ریاست کے بین پر سرمست ہوتے ہیں، دیسی دانشوروں کے سر میں ایک ایسی انفرادیت پسند معاشرے کا تصور ٹھونس دیا جاتا ہے آج کے جدید دور میں نام نہاد دانشوروں کے ساتھ ہمارے دیسی دانشوروں کی خود نمائی، نرگسیت، انفرادیت پسندی فیسبک اوردیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ ماما قدیر بلوچ نے وڈھ میں جاری کشیدگی پر وڈھ کے مینگل قبیلے سے اپیل کی ہے کہ اپنے آپسی تنازعہ کا حل مل بیٹھ کر بلوچی رسم و رواج کے مطابق نکالیں، اس تنازعہ سے بلوچ قوم کو نقصان کے سوا کچھ بھی نہیں، فائدہ دشمن کا ہوگا۔ ماما قدیر بلوچ کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا بلوچ قوم پہلے سے حالت جنگ میں ہے، خان آف قلات میر سلیمان داﺅد جان سے اپیل ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے قوم کے زعما اور علما پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر آپسی جنگ کا خاتمہ کریں کیونکہ غلطیوں کودہرا کر بلوچ قوم جنگ کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا۔


