اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورہی نہیں،تمام یونیورسٹیوں کی مانیٹرنگ کی جائے،عبد الاکبرچترالی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جماعت اسلامی پاکستان کے سینئر رہنما اوررکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا ہے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 5500بچیوں کی برہنہ تصویریں وہاں کے پروفیسرزاورعملے کے پاس پائی گئیں، نشہ آور ادویات برآمد ہوئیں لیکن ان کے خلاف کوئی نہیں بولتا۔میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کروں گا کہ صرف اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہی نہیں بلکہ پاکستان میں جتنی بھی یونیورسٹیاں ہیں ان سب کی مانیٹرنگ کی جائے تاکہ پتہ چلے کہ کہاں، کہاں غلطی ہے، کہاں ، کہاں ظلم ہورہا ہے،حکومت پاکستان کو چاہیے کہ قرآن مجید کی توہین پر سویڈن اور ڈنمارک کے سفیروں کو فوراًیہاں سے نکال دے اوراپنے سفیروں کو وہاں سے واپس بلالے۔میں اوآئی سی، سعودی عرب، امارات ، ایران، افغانستان ، شام ، عراق سمیت جتنے بھی مسلم ممالک ہیں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سویڈن اورڈنمارک کے سفیروں کو فوراً اپنے، اپنے ملکوں سے نکال دیں اوروہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیں۔ان خیالات کااظہار مولانا عبدالاکبر چترالی نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ ملکی سطح پر بھی اوربین الاقوامی سطح پر بھی شعائر اسلام کے خلاف ایک منظم سازش ہو رہی ہے، کمی بیشی اور خامیاں ہر ادارے میں ہوتی رہتی ہیں لیکن دینی مدارس کوانسانی حقوق کے نام پر نشانہ بنایاجارہا ہے ،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 5500بچیوں کی برہنہ تصویریں وہاں کے پروفیسرزاورعملے کے پاس پائی گئیں، نشہ آور ادویات برآمد ہوئیں لیکن ان کے خلاف کوئی نہیں بولتا اورنہ ہی انسانی حقوق والے یہاں ہیںلیکن مدارس کے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے، حالانکہ دینی مدارس اس وقت 35سے40لاکھ بچوں کو دینی اورقرآن وسنت کی مفت تعلیم دے رہے ہیں، اس مہنگائی کے دور میں طلباء کو مفت کھانا اوردیگر سہولیات فراہم کررہے ہیں، ہم ادارے چلارہے ہیں ،کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا نہیں ہوتااورایک سازش کے تحت ان اداروں کو بدنام کیا جارہاہے۔انہوںنے کہا کہ ملک کے اندر شعائر اسلام کی توہین کی جارہی ہے اور لوگوں کو غیر شعوری طور پر سمجھایا جارہا ہے کہ دینی اداروں میں یہ کام ہورہا ہے۔ میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کروں گا کہ صرف اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہی نہیں بلکہ پاکستان میں جتنی بھی یونیورسٹیاں ہیں ان سب کی مانیٹرنگ کی جائے ، تمام یونیورسٹیوں میں منشیات فروخت ہورہی ہیں، تمام یونیورسٹیوں میں حقیقت یہ ہے خلاف شرح کام ہورہے ہیں، ان کو مانیٹر کیا جائے تاکہ پتا چلے کہ کہاں، کہاں غلطی ہے، کہاں ، کہاں ظلم ہورہا ہے۔مولانا عبد الاکبر چترالی کا کہنا تھا کہ سویڈن میں قرآن مجید کی توہین کی گئی، ڈنمارک میں پھرہوا، سویڈن میں پھر ہوا، ہم پوری دنیا کویہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی انبیاء علیہ السلام تشریف لائے ہیں ہم سب پر ایمان لاتے ہیں،ہماراایمان ہے کہ کوئی کسی ایک نبی چاہے وہ حضرت عیسیٰ ،حضرت موسیٰ، حضرت اسماعیل یا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں کاانکار کرے وہ مومن مسلمان نہیں ہوسکتا ،اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب قرآن مجید ہو، تورات ہو زبور ہو یا انجیل ہو ان چاروں پر کوئی ایمان نہ رکھے وہ بھی مسلمان نہیں ہوسکتا،وہاں قرآن کی توہین کی گئی لیکن ہمارا کردارکیا رہا،ہم نے اس کے لئے عملاً کیا کام کیا، کیا ہم نے سویڈن اور ڈنمارک کے سفیروں کو پاکستان سے نکال دیا، کیا اوآئی سی نے کوئی عملی کاروائی کی، کیا اوآئی سی نے اس کے لئے کوئی ایکشن لیا، وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں کتنا دم ہے کتنا خم ہے،ان میں کتنی غیرت ہے، کتنی غیرت ایمانی ان میں موجود ہے لیکن وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسلمانوں میں وہ دم بھی نہیں وہ خم بھی نہیں، قرآن کی توہین ہورہی ہے اورہم آرام سے احتجاج کر کے بیٹھے ہیں، حکومت پاکستان کو چاہیے سویڈن اور نمارک کے سفیروں کو فوراًیہاں سے نکال دے اوراپنے سفیروں کو وہاں سے واپس بلالے، تب دنیا کو پتا چلے گا۔میں اوآئی سی، سعودی عرب، امارات ، ایران، افغانستان ، شام ، عراق سمیت جتنے بھی مسلم ممالک ہیں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سویڈن اورڈنمارک کے سفیروں کو فوراً اپنے، اپنے ملکوں سے نکال دیں اوروہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیں۔


