آئین کے تحفظ اور پاسداری کا حلف اٹھانے والے ججز ہر روز اسے پامال کررہے ہیں، پاکستان بار کونسل
کوئٹہ (یو این اے) پاکستان بار کونسل کے ممبر منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس بلوچستان کی 14 اگست کی مناسبت سے تقریب سے خطاب ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ محترم چیف جسٹس صاحب نے اپنے ادارے میں کونسے میرٹ اپنایا نہ ججز کی تعیناتی میں میرٹ نہ لوئر کیڈر ملازمین میں میرٹ 45 سال سے اوپر عمر والے کو ڈرائیور لگوایا پلمبر کے کام کے الف ب نہ جانتے ہوئے بھی اپنے ادارے میں کسی جج کا ہم قوم بھرتی کروایاسریاب اور کچلاک کورٹ کے کمپلیکس بنانے کے ٹینڈر کیا شفاف تھے؟؟ سریاب روڈ کے وائڈنینگ کا ٹھیکہ ہائی کورٹ کے کس جج کے کہنے پر اور کس کو ملا؟؟ کیا وہ پراسس شفاف تھا؟؟ عدالت کی حکومت پر کسی قسم کی گاڑیاں خریدنے پر حکم امتناعی لیکن خود ہاءکورٹ نے لگ بھگ پچاس کے قریب گاڑیاں خریدی کیا یہ عمل قانون کے مطابق تھا؟؟قانون اور رولز کے مطابق ہائی کورٹ کے ججز کو 1500/1300سی سی کرولا کار استعمال کرنے کی اجازت ھے لیکن یہی ججز 4500 سی سی لگژری گاڑیاں استعمال کررھے ہیں کونسے قاعدہ اور قانون کے تحت؟ ایک طرف مختلف پیٹیشنز میں حکومت کے خلاف حکم امتناحی جارے کرتے رہتے دوسرے جانب یہی ججز ان پیٹیشنز کے اڑ میں حکومتی افیسران کو گھر اور چیمبر میں بلاکر اپنےذاتی مفادات اور اپنے رشتہ داروں کو اکاموڈیٹ کروانے کے لیے دباو میں لاتے ہیں آئین پاکستان کے تحفظ اور پاسداری کے حلف اٹھانے والے یہی ججز ہر روز آین پاکستان کو پامال کر رہے ہیں آئین پاکستان میں واضح لکھا ھے بلکہ Shall کالفظ استعمال ھوا کہ بلوچستان کے تمام بینچز سبی تربت لورلائی اور خضدار کو ریگولر بنیادوں پر فعال ھونے چائیے لیکن مجال ھے کہ یہ ججز بالخصوص چیف جسٹس خود ائین اور قانون پر عمل کرے اور خود میرٹ کی پیروی کرے اگر اج بھی ھمارے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز ائین قانون میرٹ اور اپنے دیئے گئے فیصلوں کی پاسداری اور ان پر صیح معنوں میں عملدرامد کرے تو کوئی مائی کا لال چائیے جنرلز ھو سیاستدان ھو بیوروکریٹ ھو کوءبھی غیر ائینی اور غیر قانونی کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتاچرچل نے جنگ کے دوران ایسے ویسے نہیں کہا تھا کہ کیا ھمارے عدالتیں انصاف کر رھی ھے تو ان کے رفقا نے مثبت میں جواب دیا اسپر چرچل نے کہا پھرھم جنگ جیت جائنگےیہی تو وجہ ھے کہ پاکستان بننے سے لے کراج تک ھمارے عدالتیں اور ججز انصاف نہی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ھمارا ملک اج تک اسٹیبلیشمنٹ سے ازاد نہیں ھو پارہا کیونکہ ھمارے عدالتیں اور ججز فوجی جنرلز کے لیے بطور سہولت کار کام کرتے ہیں۔


