لاپتہ افراد کیلئے جدوجہد کرنیوالی حوران اکیلی نہیں، پور بلوچ قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے، حق دو تحریک
تربت (بیورو رپورٹ) حق دو تحریک بلوچستان کیچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں گزشتہ 15 سال سے زائد وائس فار مسنگ پرسن پر کام کرنے والے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کیخلاف آواز اٹھانے والے سرگرم بلوچ بہن بانک حوران بلوچ کو ریاستی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے، گزشتہ دنوں بانک حوران بلوچ کے گھر سریاب میں دوسو سے زائد ایجنسیز کے لوگوں کے بلاجواز چھاپے انکے والد، فیملی ممبراں کو ہراساں کرنا اس بات کا عکاسی کرتا ہے کہ ریاست ریاستی ادارے بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں کو جائز قرار دیکر انکے کیخلاف بولنے، آواز اٹھانے کی پاداش میں سیاسی لوگوں کی جمہوری آئینی مزاحمت کرنے والوں کو برداشت نہیں کرسکتے، بلوچوں کی کسی قسم کی سرگرمیوں گوارا نہیں کرسکتے تو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے بند کرنا چاہیے، جو لاپتہ افراد کردیے گئے ہیں انہیں بازیاب کرایا جائے کسی کو احتجاج، دھرنا، بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا شوق نہیں ہے، سالوں سال اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے پریس کلب، چوک چوراہوں، سڑکوں پر دربدر کی زندگی گزارنے پہ مجبور مسنگ پرسن کے لواحقین انکی زندگی دنیا میں جہنم بنا دی گئی ہے۔ بزرگ، چھوٹی بچیوں نے کوئٹہ سے 3000 ہزار کلومیٹر کا لمبی مسافت کا سفر طے کر کے اسلام آباد ڈی چوک نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں دھرنا دیا کسی نے انکی نہیں سنی، نہ عدلیہ نے سوموٹو ایکشن لیا نہ عسکری سربراہاں، پریس کلب احتجاجی کیمپوں میں چھوٹے چھوٹے بچے جوان ہوگئے، تاحال انکی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہیں، سمی دین جان، مہلب دین جان جسکی واضح مثال ہیں، اسوقت انکے والد ڈاکٹر دین جان کو اورناچ کے ایک سرکاری ہسپیتال ڈیوٹی کے دوران 2009ءمیں لاپتہ کر دیا گیا سمی کی عمر لگ بگ چھ سال مہلب کی چار سال تھی آج انکی عمر کا آدھا حصہ مسنگ پرسن کے اختجاجی کیمپوں پریس کلبوں کے سامنے گزرچکی ہیں کئی مسنگ پرسن کے لواحقین کے اپنے پیاروں کی دکھ دردوں سے نبرآزما ہو کر اس دنیا سے ہمیشہ کیلئے چلے گئے ہیں اسی طرح ذاکر مجید چیئرمین زاہد دیگر کئی لوگوں کو جبری لاپتہ کر دیا ڈسٹرکٹ خضدار کے ایک چھوٹی دیہات توتک میں سینکڑوں اجتماعی قبریں دریافت ہوا بغیر کسی تحقیات معاملہ کو دبایا گیا مولتان نشتر ہاسپیٹل کے چھت پہ سینکڑوں death body نکلے بغیر کسی پوسٹ مارٹم ڈی این اے معاملات کو رفع دفع کیا جعلی مقابلوں میں کءسالوں پہلے سے زیرحراست بلوچ فرزندوں کو شہید کر کے عسکریت پسند ظاہر کرنا تو اسی طرز عمل مسنگ پرسن کے لواحقین کے دلوں میں کیا گزرتی ہیں جنکے پیارے لاپتہ کر دئیے گئے ہیں یہ کھلی ناانصافی ہیں بلوچوں کیساتھ پھر بھی اس قسم کی ظلم جبر بربریت کیخلاف بولنے آواز اٹھانے کی پاداش میں آج بانک حوران بلوچ کو ٹارچر کیا جارہا کل ماما قدیر کو تاکہ دنیا کے سامنے بلوچ مسنگ پرسن کا مقدمہ کو دبا کر کمزور کیا جاسکے بانک حوران بلوچ ایک فرد نہیں ایک سوچ نظریہ ہے جسکو کو ٹریٹ کرکے دبانا یہ ان لوگوں کی حام حیالی ہے اس جدید سائنس کے دور میں پوری دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکا ہے آج 1948 یا 1970 کے زمانہ نہیں 2023 ہے آج ہر بلوچ باشعور اپنی حقوق کے بارے میں مکمل آشنا ہو چکی ہیں آپ کسی کی جان کو مار سکتے نقصان پہنچ سکتے ہیں ان کی سوچ کو نہیں مار سکتے بانک حوران معاملے کیخلاف تمام سیاسی پارٹیز سیول سوساٹی سماجی تحریک تنظیم اس ناروا سلوک کے بارے میں آواز اٹھانا چاہیے بانک حوران بلوچ اکیلی نہیں پوری بلوچ قوم انکی پشت پر کھڑی ہے، ایک درخت کی شاہ ہزاروں ماچس بتیں بنتی ہیں لیکن ماچس کی ایک بتی پوری جنگل میں آگ لگانے کیلئے کافی ہیں شہید نواب اکبر خان شہید چیئرمین غلام محمد شیر محمد لالہ منیر کہانی کو دوبارا بلوچستان میں دہرانے کی غلطی نہ کریں آپ لوگوں نے کءبلوچ سیاسی رہنماو¿ں کو لاپتہ شہید کر چکے ہیں نتیجہ کیا نکلا وہی مشرف والی آگ سے آج پوری ملک جل رہا ہے اس پہ پیٹرول نہ ڈالا جائے اپنے حقوق کی مزاحمت سے کسی زی شعور انسان دھونس دھمکیوں خوف ڈر کے مارے کبھی دستبردار نہیں ہوتا۔


