نگران وزیراعلی کا معاملہ، حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کیلئے نام فائنل کر لیے
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان میں نگران وزیراعلی کی تقرری تعطل کا شکار ہوکر پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہو گئی گزشتہ رات مقررہ وقت تک وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے علی مردان ڈومکی کی نگران وزیراعلی کی تقرری کی سمری پر دستخط نہ کرنے سے معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا پارلیمانی کمیٹی کے پاس اب معاملے کے حل کے لئے 3 روز کا وقت ہے نگران وزیراعلی کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی حل نہ ہوا تو تقرری کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لئے بلوچستان اسمبلی کو تین نام دیئے گئے ہیں جس میں عبدالواحد صدیقی، یونس عزیز زہری اور حاجی نواز کاکڑ شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے نگران وزیراعلی کے لئے عثمان بادینی اور علی مردان ڈومکی کو نامزد کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے نگران وزیر اعلیٰ بلو چستان کی تقرری کے لئے کمیٹی کے اراکین وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبد القدوس بزنجو، سابق صوبائی وزراء سردار عبدالرحمان کھیتران اور زمرک خان اچکزئی ہوں گے ۔وزیر اعلیٰ کی جانب سے حکومتی پار لیمانی کمیٹی کے نام اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو ارسال کر دئے گئے ہیں ۔پارلیمانی کمیٹی کے اراکین حکومت کی جانب سے 2نام پار لیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کریں گے جس پر اتفاق رائے سے نگران وزیر اعلیٰ بلو چستان کا فیصلہ کر نے کی کوشش کی جائے گی ۔


