عدالت کا حب صنعتی اراضیات کو رہائشی سوسائٹیز میں تبدیل کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کا حکم

حب (یو این اے) ضلع حب آئینی پٹیشنز ہائی کورٹ آف بلوچستان نے حب کے صنعتی اراضیات کو غیر قانونی طور پر رہائشی سوسائٹیز میں تبدیل کرکے پلا ٹنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم،الہی بخش مینگل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی جانب سے دائر کردہ سی ایس آر فنڈز کی مقامی آبادی پر خرچ نہ کرنے کے خلاف پٹیشن کی سماعت ہوئی، پٹیشن کی سماعت پرنسپل بینچ کوئٹہ میں روبرو جسٹس عبداللہ بلوچ اور جسٹس عامر نواز رانا ھوئی، تقریبا پچاس کے قریب فیکٹریوں کے وکلا عدالت میں پیش ھوئے، جبکہ بقیہ کی رپورٹ اے ڈی سی حب نے پیش کیا کہ کچھ فیکٹریاں مشینری لے جا کہ اراضی فروخت کی ھے بعد ازاں رھائشی سوسائٹیز بنا کے لوگوں میں پلاٹنگ کرکے چلے گئے ھیں جس پر عدالت نے اظہار برھمی کیا کہ جب حب کو اکنامک زون بنایا تو صنعتکاروں کو اراضی اس لئے کوڑیوں کے دام دی کہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کریں روزگار کے مواقع پیدا کریں ڈی سی حب کو ایسے غیر قانونی سوسائیٹیز کے خلاف کارروائی کا حکم، غیر قانونی این او سی کا اجرا کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم، لیڈا اور چیمبر آف کامرس نے ان کو کس قانون کے تحت اجازت دی، صنعتی اراضی عوام الناس کی فلاح کی خاطر کوڑیوں کے دام حاصل کی اور اراضی اربوں روپوں میں فروخت کرکے چلے گئے یا آج تک فیکٹری کو فنکشنل نہیں کیا ،لیڈا اور چیمبر آف کامرس سے جواب طلبی، حب شہر کی پٹیشن میں میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی غیر اطمینان بخش قرار، چیف آفیسر نے اپنی استعداد، فنڈز کی کمی، افرادی قوت کی کمی، مشنری کی کمی کے مسائل پیش کئے جس پر سیکریٹری لوکل گورنمٹ کی طلبی ھوئی، سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ ھم نے پلان بنا کے محکمہ فائنانس کو ارسال کی ھے وہ فنڈنگ نہیں کر رھے ھیں، سیکریٹری مالیات سے رپورٹ کی طلبی، جبکہ ڈی ایس پی ٹریفک کورٹ میں پیش ھوئے لسبیلہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر سردار عبدالمجید جاموٹ اپنے کو کونسل میر عطااللہ لانگو ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کے اوتھل بیلہ ٹرانسپورٹ کے لئے حب شہر کے اندر سے روٹ کی اجازت طلبی پر اے ڈی سی حب کو معاملہ سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔ جبکہ پٹیشنر نے تجویز پیش کی کہ اوتھل بیلہ سے آنے والے ٹرانسپورٹ سوک سینٹر کر سامنے اسٹاپ کرکے پیرکس روڈ استعمال کرکے بائی پاس سے کراچی آنے جانے کا روٹ استعمال کریں، ایکسیئن بی اینڈ آر حب نے مشرقی بائی پاس کی تعمیرات کو جلد مکمل کرنے کی یقیں دہانی کرائی، حب پل سے متعلق جی ایم نیشنل ھائی وے عدالت میں پیش ھوئے اے ڈی سی حب نے پروگریس رپورٹ پیش کی کہ بارشوں کے دوران عارضی راستہ پانی میں بہہ گیا جسے بیس دن بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا پٹیشنر نے عدالت کو بتایا کہ ھیوی ٹریفک کی وجہ سے سنگل عارضی راستہ ناکافی ھے دوسرا عارضی راستہ پل کی تعمیر تک بنایا جائے تو عوام الناس کی سفری تکالیف میں کمی ھوگی عدالت کے استفسار پر این ایچ اے کے جی ایم نے کہا کہ عدالتی حکم کی تعمیل ھوگی، اوتھل بیلہ آر سی ڈی پلوں کی تعمیر پر جی ایم نے بتایا کہ مرکز کو فنڈز کے لئے لکھا گیا ھے جیسے ہی فنڈز کا اجرا ھوا ھم فورا کام شروع کریں گے جبکہ کراچی کوئٹہ شاھراہ کی تعمیرات تیں سال میں مکمل ھوگی جبکہ سوراب تا خضدار 80 کام مکمل ہوا ہے، پیشنر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ساکران روڈ کی فنڈز ابھی تک جاری نہیں ھوئے ھیں جس پے ایکسیئن جمال بگٹی نے کہا کہ فائنانس فنڈز جاری نہیں کر رھا جس پر عدالت نے سیکریٹری فائنانس کو احکامات جاری کئے کہ ساکران روڈ کے مختص فنڈز کا فوری طور پر اجرا عمل میں لایا جائے ایسا نہ ھو کہ ساکران روڈ کے معاملے پر ھم توھین عدالت کی کار huروائی عمل میں لائیں، عدالت نے تمام افسران کو عدالتی احکامات پر کلی طور پر عمل درآمدگی کا حکم دیا۔ غفلت کے مرتکب ہر افسر کے خلاف کارروائی ھوگی , آخر میں جسٹس عبداللہ بلوچ کی پٹیشنر الہی بخش مینگل سے مکالمہ، ھمیں پورے صوبے کے عوام کے بنیادی حقوق کو دیکھنا ھوتا ھے، وکیل نے استدعا کی کہ میرا ضلع نیا ھے مگر بنیادی عوامی آئینی حقوق پرانے ھیں، عدالت نے 25/09/23 تک تمام افسران اور اے ڈی سی حب پروگریسو رپورٹ پیش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں