انجینئرز کو مقامی سطح پر مینو فیکچرنگ کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں، پاکستان انجینئرنگ کونسل
کوئٹہ (آن لائن) پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین محمد نجیب ہارون نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی اور دیگر حوالوں سے بحرانوں سے نکالنے کے لئے انجینئرز اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں او رانجینئرنگ کے شعبے کو فعال بناکر ہمیں مقامی اور ملکی سطح پر اپنے روز مرہ کے استعمال کا سامان بناکر امپورٹ پر انحصار کم کرکے ایکسپورٹ پر توجہ دینا ہوگی تاکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مضبوط بنایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو انجینئر میر مسعود رشید ، وائس چیئرمین چیف انجینئر ناصر مجید اور انجینئر قاضی رشید بلوچ سمیت دیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں انجینئرز اپنا قومی رول احسن انداز میں ادا کررہے ہیں اور پی ای سی بلوچستان کے انجینئرز کو انٹرن شپ اور روزگار کے لئے ترجیح دے رہا ہے۔ بلوچستان کے 200سو ینگ گریجویٹ انجینئرز پیڈ انٹرن شپ سے استفادہ کر رہے ہیں۔ چیئرمین پی ای سی نے کہا کہ سینیٹ سے انجینئرز کیلئے سروس سٹرکچر منظور ہوا ہے جو انجینئرز کمیونٹی کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے انجینئرز کو آﺅٹ آف دی باکس اپروچ کو آگے لے کر آنا ہوگا کیونکہ دنیا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ موڈ پر موثر نتائج دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بے روزگار انجینئرز کو سہولیات کی فراہمی اور جدید تربیت سے نوازنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں اور بیوٹمز یونیورسٹی کے فائنل ایئر کے 9 پروجیکٹس کو فنڈز جاری کئے گئے ہیں یونیورسٹیز کے طلباءکے لے 2 مطالعاتی دورے کروانے کے لئے پابند بنایا جارہا ہے پاکستان میں ڈھائی سے 3 کروڑ انجینئرز ہیں ہماری کوشش ہے کہ انجینئرز ملک کو معاشی اور دیگر مشکلات اور بحرانوں سے نکالنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ ملک کو معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لئے انجینئرز کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے اس لئے ہم نے روپے کی قدر کی گرتی ہوئی ساکھ اور ڈالر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ماند نظر رکھتے ہوئے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے توسط سے انجینئرز کو مقامی سطح پر منیوفیکچرنگ کی طرف لے جانے کے لئے سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ تاکہ لوگوں کو روز مرہ کی اشیاءجو باہر کے ممالک سے منگوانی پڑتی ہے اور امپورٹ کے ذریعے پاکستان پر ڈالرز کا بھاری بوجھ پڑتا ہے اس کو کم کرنے کے لئے مقامی سطح پر منیوفیکچرنگ کرکے سامان تیار کرکے اپنی ضروریات پوری کریں اور امپورٹ پر زیادہ انحصار کرنے کی بجائے ایکسپورٹ پر توجہ دیں پاکستان ا نجینئرنگ کونسل 1976ءکا ایکٹ بہت مستحکم ہے اس کو استعمال میں لاتے ہوئے ملک کے مسائل کے حل کو یقینی بناتے ہوئے 25 کروڑ لوگ جو کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اس میں آسانی پیدا کرنے کے لئے کام کررہے ہیں اسپیشلائزیشن انجینئرز رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایوان بالا اور ایوان زیرین میں ایک فوکس تمام سیاسی جماعتوں کے انجینئرز پر مشتمل نمائندوں کا بنایا گیا ہے اور انجینئرز کے لئے سروس اسٹرکچر بنارہے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو انجینئرز ہی اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر معاشی اور دیگر بحرانوں سے نکالنے کے لئے بروئے کار لائیں گے انہوں نے کہا کہ انجینئرز کا ملک کی ترقی میں ہر اول دستے کا کردار ہوتا ہے سابقہ حکومتوں پر انجینئرز کی بہتری اور انجینئرنگ کے شعبے کو ترقی کا زینہ قرار دینا ہوگا سابقہ حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور پارلیمانی نمائندوں نے بھی اس کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا تھا اور ہر دور میں انجینئرنگ کو نظر انداز کیا گیا حالانکہ انجینئرنگ کو آگے بڑھنے کے لئے انہیں ریگولرائز کیا جائے تو وہ انڈسٹری کو آگے بڑھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں اس کے لئے پرائیویٹ اور حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کے طاقتور ایکٹ کو سلب کرکے انجینئرز کے خزانے کو استعمال کرنے پر توجہ نہیں دی گئی حالانکہ انجینئرز کے خزانے کو استعمال کرنے کے لے ہم کنجی کھودی تھی اس کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا اور ہم انجینئرز کی رجسٹریشن کا مربوط نظام بناتے ہوئے ویجیلنس سیل قائم کررہے ہیں تاکہ چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنایا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل بے روزگار انجینئرز کو انٹرن شپ کے ذریعے روزگارکے مواقع اور سہولیات دے رہی ہے اور 6 ماہ کا تربیتی کورس کروارہی ہے اسکیم کے تحت بلوچستان کے 205 انجینئرز مستفید ہوں گے جن میں سے 65 نے تربیت مکمل کرلی ہے۔ 140 تا حال کورس کررہے ہیں انہیں کورس کے ساتھ ساتھ تربیت اور روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔ بیوٹمز کو 9 منصوبوں کے لئے فنڈز دئے ہیں خضدار اور نسٹ کو اس میں شامل کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں چیف انجینئر ناصر مجید کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 12 ڈیم میں سے 8 بڑے ڈیم ہیں اور 27 ڈیمز بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے جس کی بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے گوادر کو ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے پانی فراہم کرتے تھے میرانی ، آکڑا اور سبکزئی ڈیم سے پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے انجینئرز کو سرٹیفیکیٹ دیئے۔


