نوکنڈی میں اتنے اسکول نہیں جتنے منشیات کے اڈے ہیں، حکومت سدباب کرے، عوامی حلقے

نوکنڈی (آن لائن)نوکنڈی شہر میں بازار ایریا اور دیگر ایریا سمیت کلیوں میں منشیات کے بے شمار اڈے قائم ہیں جہاں روزانہ لاکھوں روپے کے منشیات فروخت ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق نوکنڈی شہر میں اتنے سکول نہیں ہیں کہ جتنے منشیات کے اڈے ہیں مختلف شہروں سے مختلف طریقوں سے گزرتا ہوا یہ منشیات مختلف ساقی خانوں میں فروخت ہوتے ہیں جن سے نوکنڈی کے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہیں قبائلی معتبرین اور اسٹیک ہولڈرز کی خاموشی باعث المیہ ہے ان کے نظروں کے سامنے ان کے نونہال اس لعنت میں مبتلا ہو رہے ہیں مگر مجال کہ وہ ایک لفظ ان کے خلاف کریں چھوٹے بچوں سے لیکر بڑے بڑے لوگ آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو رہے ہیں یہ ایک ایسا ناسور ہے جس سے گھر تباہ ہو رہے ہیں اس کے استعمال سے معاشرے میں اور دیگر برائی جنم لے رہے ہیں جس سے انسانی قدر معاشرے سے ختم ہو رہی ہے معاشرے سے اس لعنت اور ناسور کو ختم کرنے کے لیے تمام طبقہ فکر کے لوگوں کو ایک ساتھ ہونے کی ضرورت ہےاگر اس ناسور کو مزید وقت دیا گیا تو ہم اپنے گھروں میں اپنے نونہالوں کو سنھبال نہیں سکیں گے پھر ہمارے لیے وہی کہاوت اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت میں منشیات کے خرید و فروخت سے جہاں نوجوان نسل تباہ ہو رہے ہیں وہاں ایک خاندان بھی تباہ ہو رہا ہے ایک بندے کی وجہ سے اس خاندان کے تمام خوشیاں، سکون ختم ہو جاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منشیات کو آخر کیسے ختم کیا جائے ہمارے سیکورٹی والے اس ناسور کی روک تھام میں کیوں خاص چست نظر نہیں آ رہے ہیں جس سے یہ بڑی آسانی سے ہمارے شہروں میں دستیاب ہے اگر ہمیں اپنے مستقبل کے مہماروں کو صحت مند اور قابل دیکھنا ہے تو اس کی روک تھام کیلئے ہمارے قبائلی معتبرین اور سیکورٹی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونا چاہیےاور اس کے خلاف جتنی سختی سے کارروائی کی ضرورت ہو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے تب ہم ایک پاک و صاف معاشرہ تشکیل دیں سکیں گے نہیں تو یہ رونا اسی طرح جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں