سناڑی قبائل رسم و رواج نہیں مان رہے، مینگل اقوام جنگی ہتھیاروں کیساتھ دشتگوران پہنچیں، میر پسند خان

قلات (نمائندہ انتخاب) دشت گوران خلق شہید میر لونگ خان مینگل میں میر پسند خان مینگل، میر کوہی خان مینگل سردار بالاچ خان مینگل، میر دینار خان مینگل نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذگر مینگل قبیلہ کے بڑے شاخ اور سناڑی قوم کے درمیان جو تقریباً بیس سال سے تنازعہ چل رہا ہے جسمیں کئی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں اور گزشتہ 20 سال سے سردار ثناءاللہ خان زہری کا ٹولہ اور ذگر مینگل کے بڑے شاخ کے درمیان یہ تنازعہ جاری ہے۔ 2015ءمیں نواب اسلم رئیسانی، سردار کمال خان بنگلزئی، آغا موسیٰ جان احمد زئی، نواب محمد خان شاہوانی، میر کبیر جان محمد شہی نے تقریباً 3 سال تک ثالثی کی اور بیان جاری کیا کہ سناڑی قبائل نے ان سے ثالثی کا اختیار واپس لیا۔ اس کے بعد بھی بہت سے لوگوں نے ثالثی کی مگر مخالف فریق نے کنارہ کشی اختیار کی اور اب سرداروں نے ثالثی کی مگر سناڑی قبائل نے فیصلہ نہیں مانا، آج سے ڈیڑھ مہینے پہلے سناڑی قبیلے کی طرف سے ہمارے ٹریکٹروں پر فائرنگ کی گئی، پھر جھالاوان کے سردار نعمان ملازئی، سردار علی محمد قلندرانی، میر علی اکبر گرگناڑی سردار ریکی زئی اور دیگر معتبرین کو دونوں قبائل نے اختار دیا بہت بیش رفت کے بعد سناڑی قبائل نے پھر مخالفت کی اور اب معتبرین نے اپنا ایک بیان جاری کیا ہے کہ سناڑی قبائل ہمیں نہیں مانتے۔ میر پسند خان مینگل نے کہا کہ یہ لوگ ہمیشہ رسم و رواج کی مخالفت کرتے ہیں اور رسم و رواج مسخ کرتے ہیں، ہم اپنے مینگل قبائل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کل اپنے جنگی ساز و سامان کے ساتھ دشت گوران پہنچ جائیں اور دیگر لوگوں سے اپیل ہے کہ دشتگوران کے راستے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں