جامعہ بلوچستان میں مسلح و غیر متعلقہ افراد کا کھلے عام گھومنا باعث تشویش ہے، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن
کوئٹہ (پ ر) پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر ملک احتشام الحق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے ایڈمنسٹریشن بلاک میں چیف سیکورٹی کے آفس میں پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر طاہر شاہ کاکڑ اور مرکزی ودیگر صوبائی اور مرکزی قائدین پر بلوچستان یونیورسٹی میں کچھ شرپسند عناصر کی طرف سے کیے گئے حملے کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حملے کے دوران بھی پشتون ایس ایف کے باقی ذمہ دار اور نظریاتی کارکنوں کا پرامن رہنا ان کے سیاسی سنجیدگی اور عدم تشدد کے فلسفے پر ان کی پختگی کا واضح ثبوت ہے۔ اس بات کو واضح کرتے چلیں کہ پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے مشران پر حملہ پشتون ایس ایف کے وقار پر حملہ ہے اور ایسے عمل کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس کی مزاحمت بھی کی جائے گی۔ پشتون ایس ایف تنظیم کے اندر غیر سیاسی کلچر کو کبھی بھی فروغ ہونے نہیں دے گی اور تنظیمی، نظریاتی و مخلص ساتھیوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ یونیورسٹی کے احاطے میں روز روز ان شرپسند عناصر کی طرف سے نہتے طلبا و سیاسی کارکنان پر تشدد و مجرمانہ کارروائیوں کی طویل فہرست کے باوجود جامعہ انتظامیہ کی جانب سے غفلت، سرد مہری و لاپروائی کی وجہ سے کل کوئی بڑا سانحہ رونما ہوسکتا ہے جس کے ہم مظلوم و محکوم اقوام متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی مزید یہ غفلت برداشت کی جائے گی۔ جامعہ کے گیٹ پر اسیکینرز و کیمروں کی بھرمار کے باوجود یونیورسٹی میں مسلح و غیر متعلقہ افراد کا کھلے عام گھومنا حیران کن و باعث تشویش ہے۔ پشتون ایس ایف مطالبہ کرتی ہے کہ جامعہ انتظامیہ و پولیس ان شرپسند عناصر کی سرکوبی اور طلبا و طالبات کو پرامن تعلیمی ماحول کی فراہمی کے لیے قانونی کارروائی کی جائے۔


