بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے پاس نیٹو اسلحہ ہے، پنجگور، نوشکی حملوں میں یہی استعمال ہوا، انوار الحق کاکڑ

گلگت بلتستان ( آن لائن ) نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ کسی کو بھی معاشرے کو یرغمال بنانے کی اجازت کبھی نہیں دینگے، پاکستان میں کسی اور کی ایجنسی نہیں پاکستانی اداروں کا ہی اثر ہو گا کسی کو غلط فہمی ہے تو ہو دور کر لیں۔گلگت بلتستان کے مسائل کو حل کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔گلگت بلتستان میں میں امراض قلب ہسپتال کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت کے باسیوں نے بڑی محبت سے استقبال کیا، انہوں نے کہا ایک دوسرے کے حقوق کو یکساں تسلیم معاشرے کی بنیاد ہے، ایک دوسرے کا احترام بہت ضروری ہے ،انسان ایک جیسے نہیں رہتے تبدیلی کا مرحلہ جاری رہتا ہے ،حکمت اور دانائی کے ساتھ غلط فہمیوں کا خاتمہ کریں گے ،حقوق کی زمہ داری ریاست کی ہے جسے احسن طریقے سے نبھائےں گے ،انہوں نے کہا کہ قوانین کا نفاذ کیا جائے گا،چند لوگ ایجنڈے پرہیں،کسی کو بھی معاشرے کو یرغمال بنانے کی اجازت کبھی نہیں دینگے، تقرریوں کےلئے بولیاں نہین لگنے دینگے، بولیوں کا گلہ گھوٹنے آئے ہیں ، ملک میں کسی غیر ملکی ادارے کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے ، پاکستان میں کسی اور کی ایجنسی نہیں پاکستانی اداروں کا ہی اثر ہو گا کسی کو غلط فہمی ہے تو ہو دور کر لیں۔ علاوہ ازیں نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ اختیار الیکشن کمیشن کا تھا، لیکن صدر نے الیکشن کی تاریخ تجویز کردی۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن جلد ہی الیکشن کی مناسب تاریخ کا اعلان کرے گا، حلقہ بندیاں بھی آئینی انتخابی عمل کاحصہ ہیں، نگراں حکومت عام انتخابات کے لیے تیار ہے۔ انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ سے متعلق واضح ہدایت ہیں، بہت ساری جگہوں پر ایکشن بھی نظر آیا، مختلف علاقوں میں مثبت اثرات آئے ہیں، سیاسی پلیئرز نے کہا تھا بارڈر اضلاع میں تجارت کی اجازت دینی چاہیے، صوبائی حکومت کو اختیار دیا گیا جن گاڑیوں کو تجارت کی اجازت ہوگی، ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) انہیں ٹوکن جاری کریں گے، ڈی سی ان گاڑیوں سے فی گاڑی دو سے ڈھائی لاکھ روپے ہفتہ لیتے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چند بیورو کریٹس کی ان اضلاع میں ڈیڑھ دو سال تعیناتی رہی ہے، چند بیورو کریٹس کی تعیناتی میں عمل دخل رکھنے والے افراد کے خلاف ایکشن لیں گے، ہمارے کریک ڈاو¿ن سے روپے کی قدر میں بہتری آئی، ہم نے صرف ایک کام کیا جو بھی قوانین ہیں ان پر عمل کیا جائے، ہم وہ شواہد جمع کر رہے ہیں جو عدالت میں بھی ان کے خلاف پیش کیے جا سکیں۔ ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم نے کہا کہ اگر وہ تحریک انصاف میں ہوتے تو ان کا پہلا جملہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت ہوتا، ایسا نہیں کہ میں مغل حاکم کی طرح فرمان جاری کروں گا کہ پی ٹی آئی سیاست میں حصہ لے سکتی ہے یا نہیں، جو بھی ہوگا قانون کے مطابق ہوگا، جو بھی فیصلہ آئے گا اس کے بعد بھی اپیلٹ اتھارٹی موجود ہوں گی۔ انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ بی ایل اے ، ٹی ٹی پی اور داعش کے ہاتھ افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ لگ گیا ہے ، پنجگور اور نوشکی کے حملوں میں یہی اسلحہ استعمال ہوا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں