حکومتی وفد منانے میں ناکام، سردار اختر مینگل کا حکومت میں شامل ہونے سے انکار

کوئٹہ: حکومتی مذاکراتی وفد ناراض اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کو منانے میں ناکام ہوگئی سردار اختر جان مینگل نے مطالبات کے حل تک دوبارہ حکومت کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر حکومتی مذاکراتی وفد جس میں وفاقی وزراء پرویز خٹک اور اسد عمر شامل تھے نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے ملاقات کی اس موقع پر بی این پی کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی‘ محمد ہاشم نوتیزئی اور آغا حسن بلوچ بھی موجود تھے مذاکراتی وفد نے سردار اختر جان مینگل کو فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی جس پر سردار اختر جان مینگل نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ یقین دہانیوں کا دور گزر چکا بی این پی اصولوں پر حکومت سے الگ ہوئی تھی 6 نکات پر عملدرآمد نہیں ہوا ہے اگر حکومت یہ مسائل حل کر دے تو پورا بلوچستان پی ٹی آئی میں شامل ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ دوستی اور تعلق برقرار رہے گا لیکن حکومت میں شامل نہیں ہو سکتے علیحدگی کا فیصلہ پارٹی نے کیا تھا اور میں پارٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مذاکراتی وفد نے کہا کہ وہ بہت جلد سردار اختر جان مینگل کے تحفظات دور کر دیں گے آج کی نشست کے علاوہ سردار اختر مینگل کے ساتھ مزید بھی نشستیں ہونگی جب ملک کے ہر حصہ کو ترقی اور حقوق ملیں تو ہی ملک ترقی کر سکتا ہے ہمیں ایسا کام کرنے کی ضرورت ہے کہ پورے پاکستان کی عوام کو نظر آجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں