بلوچستان کے کاشتکاروں کے فائدہ کیلئے ایران سے سیب کی اسمگلنگ روکی جائے، کسان اتحاد پاکستان
کوئٹہ (آن لائن) چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ آرمی چیف، نگران حکومت کا ڈالر کے خلاف کریک ڈان سمگلنگ کی روک تھام خوش آئند ہے۔ ایران سے سیب کی اسمگلنگ روکی جائے تاکہ بلوچستان کے کسانوں کوفائدہ مل سکے۔ کسان مہنگی بجلی کے بل ادا کرنے کے باوجود کنکشنز کاٹنا درست عمل نہیں۔ ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں دیگر کسان رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اور نگران کے اقدامات عوام دوست ہیں جس سے عام لوگوں کو فائدہ مل رہا ہے ڈالر کے خلاف کریک ڈان شروع ہونے سے دالڑ کی قیمت میں 30 سے 40 روپے کی کمی ا ٓئی ہے جس سے ملک کی معیشت مضبوط ہوگی اور ملک ڈیفالٹ سے بچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک وقت اور حالات کے مطابق احسن اقدام ہے۔ غیر قانونی کاروبار سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی اور اس سے کسانوں کو بھی فائد ملے گا ایرانی سیب کی سمگلنگ پر پابندی عائد کی جائے تاکہ بلوچستان کے کسانوں کو ان کے تیار پھلوں اور سبزیوں کا اچھا معاوضہ مل سکے اگر ایرانی سیب کی پاکستان لانے پر پابندی عائد نہ کی گئی تو کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے وہ مقروض ہوں گے ملک کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ کسانوں کو بجلی، کھاد، ادویات مہنگی مل رہی ہے جس سے بھاری اخراجات پورا کرنے سے قاصر ہوں گے۔ حکومت سیب لانے پر مکمل پابندی عائد کرکے کسانوں کو مالی مشکلات سے نجات دلا کر زراعت کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت بجلی چوری کی آڑ میں کسانوں کے کنکنشز کاٹے جارہے ہیں کسان مہنگی بجلی بل ادا کرنے پر مجبور ہیں یہ سب کچھ کرپٹ آفیسران کی سازشیں ہے بجلی چوروں کے یونٹ کسانوں پر ڈال کر اوور بلنگ کی جارہی ہے جس کا خمیازہ مفت میں کسانوں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ زراعت پاکستان میں 70 فیصد ہے زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات نہ کئے گئے تو ملک میں اناج کی قلت پیدا ہوگی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دریائے ستلج کا پانی انڈیا سے آیا جس سے لاکھوں ایکڑ پر محیط فصلیں تباہ ہوگئیں وہاں متاثرہ علاقوں میں بھی بھاری بل بھیج کر ٹیوب ویلوں کے کنکشن کاٹے جارہے ہیں جوکہ ظلم ہے ہم آرمی چیف اور نگران حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بجلی مافیا اور کرپٹ آفیسران و عملہ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسان سکھ کا سانس لے سکیں۔


