غیر قانونی مقیم افراد کا ڈیٹا موجود ہے، افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جائیگا، جان اچکزئی

کوئٹہ (آن لائن) نگراں صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک میں رہائش پذیر غیر ملکی تارکین وطن اب تک چمن بارڈر سے 1ہزار خاندان رضا کارانہ طور پر واپس گئے ہیں اور روزانہ 250 خاندان جارہے ہیں جبکہ بلوچستان میں ڈھائی سے تین لاکھ غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں اس حوالے سے تمام ادارے اعداد و شمار اکٹھے کررہے ہیں یکم نومبر کے بعد غیر قانونی طور پر رہنے والے افغان مہاجرین سمیت دیگر کو واپس جانا ہوگا بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو یکم نومبر کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ اس کے بعد اس میں کوئی توسیع نہیں ہوگی۔ اور ویزا یا مہاجر کارڈ رکھنے سمیت جن کے پاس قانونی دستاویزات ہوں گی ایسے مہاجرین کو نہیں نکالا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشتگرد عناصر نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل حافظ سید عاصم منیر نے واضح کہا ہے کہ دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں اور حمایتوں کیخلاف پوری قوت سے کارروائی ہوگی۔ان کا کہنا تھاکہ حکومت نے جب سے افغان مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے وطن واپس بھیجنے کے لئے یکم نومبر کی ڈیڈھ لائن دی ہے اب تک بلوچستان سے ایک ہزار غیرقانونی تارکین وطن چمن کے راستے واپس جاچکے ہیں۔ یکم نومبر کے بعد مخصوص جگہ بناکر وہاں سے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھیجا جائے گا تاکہ کوئی غیرقانونی تارکین وطن واپس نہ آسکیں اس کے لئے ڈیجیٹل نظام کا استعمال ہوگا۔ وفاقی و صوبائی ادارے غیر قانونی مہاجرین کی باعزت طریقے سے واپسی کی کوشش کریں گے۔ ہم نے 40 سال تک مہاجرین کی مہمان نوازی کی مگر اب ہماری مشکلات ہیں۔ ہم نے اپنے امن و امان کو برقرار رکھناہے ا س وقت 5لاکھ 78 ہزار میں سے ڈھائی سے 3لاکھ غیرقانونی افغان مہاجرین ہیں۔ غیرقانونی مہاجرین کہاں کس جگہ رہ رہے ہیں ان کا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے۔ مزید اور صحیح ڈیٹا کے حصول اور صحیح تعداد جاننے کیلئے ٹاسک فورس کام کررہی ہے۔ صوبائی حکومت آرمی چیف کو یقین دلاتی ہے کہ معیشت کو نقصان پہنچانے والے غیرقانونی اقدامات کی روک تھام کیلئے مزید سخت اقدامات کئے جائیں گے۔ صرف افغان نہیں تمام غیرقانونی مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں رہنے والے افغان باشندوں کی تعداد 95 فیصد اور دیگر ممالک کے رہنے والوں کی تعداد بہت کم ہے انہوں نے بتایا کہ انہیں باعزت طریقے سے واپس بھیجنے کے لئے ایس او پیز بنائی گئی ہے تاکہ انہیں پر امن طریقے سے واپس بھیجا جاسکے۔ ملک میں ہونے والے 20 خودکش حملوں میں سے 14 خودکش بمبار افغانی ہے ہمیں اپنے ایک بھی پاکستانی کی جان عزیز ہے اور ریاست کی بنائی جانے والی پالیسی پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا اس میں اگر کوئی خلل ڈالے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے بارڈر پر ڈیجیٹل سسٹم بنایا گیا ہے جس میں آئی بی ایم اور وی ایس کے ذریعے ہر آنے والے کی 10 انگلیوں کے فرنٹ لئے جائیں گے معلوم ہوسکے کہ جن کو واپس بھیجا ہے ان میں سے کوئی دوبارہ واپس تو نہیں آرہا ہے ان کا کہنا تھا کہ 1.3 ملین افغان باشندوں کی ہم نے خدمت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں