بلوچستان کے ججوں کو سولی پر لٹکا اور پل صراط سے گزار کر جج و چیف جسٹس بنا یا گیا، امان اللہ کنرانی

کوئٹہ (این این آئی) نگراں وزیرقانون و پارلیمانی امور و پراسیکیوشن امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بدھ 13 دسمبر 2023 کوسپریم کورٹ کے ایک معزز بنچ کی تشکیل و عبوری فیصلے پر بعض وکلاءو میڈیا کے توسط سے تنقید حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلوچستان کے ججوں کو ہمیشہ سولی پر لٹکاکر و پ±ل صراط سے گ±زار کر جج و چیف جسٹس بنایا گیاہے ۔بدھ 13دسمبر 2023 کے سپریم کورٹ کے اچھے بر ے فیصلے میں بلوچستان سے کوئی جج شامل نہیں تھا تو پھر باربار جسٹس قاضی فائز عیسی چیف جسٹس کے نام کا گردان و کردار کشی اندر کی ب±غض نہیں تو اور کیا ہے جب قاضی صاحب CJP نے 2019 میں فیض آباد دھرنے کا فیصلہ دیا تو کٹھرے میں اس وقت کے چیف جسٹس کو نہیں قاضی صاحب کو کٹھرے میں کھڑا کیاگیا آج بھی فوجی عدالتوں میں سول افراد کے مقدمات نہ چلائے جانے کا فیصلہ بھی چیف جسٹس قاضی فائزکے چیف جسٹس ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے اندر ایک سینئر جج کی سربراہی میں بنچ نے کیااور پھر حکم امتناع بھی ایک سینئر جج صاحب کی قیادت میں ہی قائم بنچ سے ملا ہے تو قاضی صاحب کو اول الزکر فیصلے پر تو کبھی ستائش نہیں ملی اور اب ضابطہ فوجداری کے اصولوں کے عین مطابق تاریخ میں پہلی بار آئین کے آرٹیکل 184(3) کے فیصلے خلاف Supreme Court Practice&Procedure Act 2023 کے تحت پہلے حق کااستعمال کرکے معمول کے عدالتی کاروائی کے تحت ایک عمومی نوعیت کے حکم امتناع جاری کیاگیا جو عدالتی کاروائیوں میں ہمیشہ دیا جاتا ہے کیونکہ گواہ کی طلبی و جرح کرکے کاروائی کا منصفانہ جاری رہنے پر کسی کا حق متاثر نہیں ہوتا نہ ہی کاروائی پر کوئی اثر نہیں ہونا چائیے تاہم فیصلے سے قبل عدالت کے دائرہ اختیار کا تعین دراصل نکتہ اعتراض ہوسکتا مگر ایسے نکتے مفصل کاروائی کے بعد اپیل میں بھی طے ہوسکتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں اور عدالتوں نے ہمیشہ ایسے فیصلے کئے ہیں Jurisdiction کے معاملات کو اصل اپیل کے ساتھ سنا جاتا رہا ہے مگر 9 مئی کے واقعات کے مقدمات پر ع±جلت و تفریق پر کیوں زور دیا جارہا ہے کیا اس سے قبل عدالتی نظائر کسی تیسرے درجے کی شہریوں و عدالتوں کے ہیں اور آج اشرافیہ کی وجہ سے چیخ و پکار و دھائیاں و تلخ زبان و بلند آواز کا استعمال کیا جارہا ہے آئین و قانون میں شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک بنیادی حق کو متاثر کرتا ہے باقی چیف جسٹس قاضی سے گلہ کرنا بالکل بھی قابل قیاس نہیں کیونکہ وہ اس بنچ کا حصہ ہی نہیں تھے پھر بھی اس کو دوش دیناکیسا؟باقی قاضی صاحب اپنے عمل و ایمان سے سچا و ایماندار صاف ستھرا جج و چیف جسٹس ہے اس پر انگلی اٹھانا سورج کی روشنی کو انگلی سے چھپانے کے مترادف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں