ماہ رنگ ان کی مذمت نہیں کرسکتی کیونکہ اس کے والد بی ایل اے کے رکن تھے، سرفراز بگٹی
کوئٹہ(یو این اے )پیپلزپارٹی کے رہنما سابق وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر میر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے ویب سایٹ (ایکس) پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ پاکستانی صحافیوں اور ہماری اعلی عدلیہ نے حالیہ بلوچ احتجاجوں پر کافی توجہ دی لیکن میرا ایک سوال ہے گزشتہ 18 سالوں سے بلوچستان جل رہا ہے، ہر دوسرے ہفتے متعصب تنظیمیں محب الوطن بلوچ عوام اور افواج پر حملے کرتی ہیں، ہمارے بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی وجہ سے ہزاروں مائیں اپنی اولاد اور بیویاں اپنے شوہر کھو چکی ہیںمیں حامد میر صاحب سمیت اپنے تمام صحافی بھائیوں اور اعلیٰ عدلیہ کی عزت کرتا ہوں لیکن میرا سوال یہ کہ کیا کبھی آپ نے بلوچستان کے ان شہدا کے وارثین سے بات کی جن کی آواز بلوچستان سے باہر جاتی ہی نہیں؟ کبھی ان آرمی جوانوں کے گھر والوں سے بات کی جو ان تخریب کاروں کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے؟ ان پنجابی مزدوروں کا پتہ کیا جن کو تربت میں تھانے میں پناہ لینے کے باوجود جاں بحق کیا؟ کیا آپ نے ان احتجاج کرنے والوں سے سوال کیا کہ کیا وہ مسلح تنظیموں کو تخریب کار تسلیم کرتے ہیں؟ کیونکہ میرا بلوچستان سے تعلق ہے، اسلئے مجھے علم ہے کہ انہیں ان سے ایسا جواب نہیں ملے گا!ہمیں آپ کی صحافت پر اعتراض نہیں، وہ آپ کا حق ہے آپ جس مرضی کی حمایت کریں لیکن مجھ جیسے ایک عام بلوچستان کے شہری کی گزارش ہے صحافت کے ترازو کے پلڑے برابر کریں انہوں کے کہا ہے کہ یقینا بندہ جب NLI سے سیدھا مائک پکڑ کر یوٹیوبر صحافی بنے تو وہ ایسی ہی بے سر و پا باتیں کرتا ہے۔ میں نے کوئی الزام تصویر کی بنیاد پر نہیں لگایا، جو تصاویر آپ نے میری لگائی ہیں وہ بلوچستان کی قبائلی روایات کے مطابق لائسنسی اسلحہ کی اور شکار کے دوران کی ہیں۔ اسلحہ اپنی حفاظت کے لئے آئین اور قانون کے دائرے میں رکھا ہوا ہے اگر ریاست کے خلاف ہوتا تو آج آپ میرے حامی ہوتے۔ ماہ رنگ لانگوو عرف ماہ رنگ بلوچ کے والد عبدالغفار لانگوو بی ایل اے کے رکن تھے یہ بات undisputed ہے، بی ایل اے کی آپسی کی لڑائی میں مارے گئے اس کی گواہی آپ ماما قدیر سے لے لیں۔ بی ایل اے کے آفیشل ترجمان عبدالغفور لانگوو کی برسی فوج پر حملہ کر کے مناتی ہے۔ دونوں کے ثبوت ساتھ پیش خدمت ہے۔ آپ اسلام آباد سے باہر نکل کر کبھی بلوچستان کا چکر لگائیں گے تو بلوچستان کے مسائل کا درست ادراک ہوگا !انہوں نے کہا ہے کہ صحافتی بدیانتی کی مثال دیکھنی ہو تو یہ ٹوئٹ دیکھنی چاہئے! مطیع اللہ جان صاحب نے کمال مہارت سے ظالم کو مظلوم قرار دے دیا۔ ماہ رنگ لانگوو عرف ماہ رنگ بلوچ کی تخریب کاروں کی مذمت نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کے اپنے والد عبدالغفار لانگوو نہ صرفBLA کا حصہ رہے بلکہ اندرونی لڑائی میں مارے گئے تھے۔ اب ماہ رنگ نہ تخریب کاروں کی مذمت کرتی ہیں نہ ان کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے بےگناہ نہتے بلوچوں اور فوج کے جوانوں کی۔


