سیلاب زدگان کی امدادی رقم میں خورد برد، وزیراعلیٰ کی تحقیقاتی کمیٹی نصیر آباد پہنچ گئی
ڈیرہ مرادجمالی (نامہ نگار)نصیرآباد میں سیلابی زرعی ہموار کرنے والے پروجیکٹ میں کروڑوں روپے غبن ہونے کا انکشاف وزیر اعلی تحقیقاتی کمیٹی زمینی حقائق جاننے کےلیے نصیرآباد پہنچ گئی ملنے والی رقم کے حوالے سے براہ راست کسانوں زمینداروں سے معلومات حاصل کی گئی فی زمیندار کسان کو زمین ہمواری کے لیے محکمہ زراعت واٹر منیجمنٹ کی جانب سے کاغذی کارروائی میں ایک لاکھ چالیس ہزار دینے جبکہ کسانوں زمینداروں نے کمیٹی کے روبرو پندرہ ہزار ملنے کا انکشاف کردیا بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے شدید بارشوں اور سیلاب سے زرعی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات چھوٹے کسانوں اور زمینداروں کو زرعی زمین ہموار کرنے کےلیے ٹریکٹروں کے گھنٹوں کی مد میں نقد رقم دینے کےلیے پروجیکٹ متعارف کرایا گیا تو نصیرآباد واٹر منیجمنٹ زراعت میں کسانوں زمینداروں کو پندرہ ہزار دینے پر سابقہ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نے کسانوں زمینداروں کی شکایات پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا گزشتہ روز وزیر اعلی بلوچستان تحقیقاتی کمیٹی کے ممبر (سابق سیکریٹری زراعت) امید علی کھوکھر ممبران کے ہمراہ نصیرآباد پہنچ کر زمینی حقائق جاننے کےلیے تحقیقات شروع کردی پروجیکٹ سے مستفید ہونے والے کسانوں زمینداروں سے براہ راست معلومات حاصل کی گئی تو بتایاکہ 140000 کے بجائے صرف 15000 دیئے گئے ہیں جس پر کمیٹی کے ممبران نے شواہد حاصل کرنے کے بعد مزید تحقیقات کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے یہاں ایک بات غور طلب ہے تحقیقات کرنے والے وزیر اعلی تحقیقاتی کمیٹی کے ممبر امیدعلی کھر اس وقت مذکورہ پروجیکٹ کے سیکرٹری زراعت تھے۔


