زکواۃ و خیرات نہیں اپنا حق چاہیے، چمن کے تاجروں نے 20ہزار روپے پیکیج کو مسترد کردیا
کوئٹہ:چمن پاک افغان سرحد کی بندش کے حوالے سے وزیراعلی بلوچستان کا اعلی سطحی وفد چمن پہنچ گیا وفد میں صوبائی وزیر داخلہ میرضیااللہ لانگو، اصغر خان اچکزئی نورمحمد دمڑ ، اور مبین خلجی شامل تھے مذاکراتی کمیٹی نے پاک افغان بارڈر پر ایک ماہ سے جاری دھرنے کے کمیٹی سے تجاویز لئے اور چمن بارڈر کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال اور مستقل بنیادوں پر حل سے متعلق امور پر بحث کی حکومتی نمائندوں کی جانب سے دھرنے کے شرکا کیلئے احساس پروگرام کے تحت ماہانہ 20 ہزار روپے دینے کی آفر کی گئی جسے چھوٹے تاجروں اور مظاہرین نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زکوٰۃ خیرات نہیں بلکہ اپنا حق چاہئے چیمبر آف کامرس پشتونخوا میپ جمعیت علما اسلام اور دھرنے کے شرکا نے غریب دیہاڑی دار طبقے اور پیدل آمد و رفت کیلئے باب دوستی کھولنے کی قانونی تجاویز اور مطالبات پیش کئے جو حکومتی نمائندے احکام بالا سے زیر بحث لائے جاینگے ۔ بلوچستان حکومتی ارکان نے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی تو مظاہرین نے مسترد کیا اور مطالبات حل ہونے تک چمن بارڈر شاہراہ کو بدستور بند رکھنے کا اعلان کیا جو دو ہفتوں سے امپورٹ ایکسپورٹ سمیت نیٹو سپلائی بدستور معطل ہے تاہم حکومتی ارکان تمام تجاویز احکام بالا سے زیر بحث لاکر ہی باب دوستی کھولنے کا کوئی فیصلہ سامنے لائیں گے ۔


