بی آئی ایس پی انتظامیہ تربت کی لاپرواہی سے عوام عدم اعتمادی کا شکار، پیسوں میں کٹوتی اور نہ ملنے کا انکشاف

تربت (پ ر) رمضان المبارک میں بینظیر انکم سپورٹ مستحق خواتین پیسے کی وصولی کے لئے زلیل وخوار بازار کے روڈ اور گلی میں خواتین کا رش رہتا ہے مگر ان کے بیٹھنے کے لیے کسی قسم کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی کوئی سائے کا انتظام ہے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرین اور سائلین نے بتایا کہ قسمت کی بدنصیبی اور قسم پرستی کی وجہ سے یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تھوڑی بہت مالی معاونت کے لیے آتے ہیں مگر کئی کئی روز زلیل وخوار ہوکر مایوس واپس لوٹ جاتے ہیں اور سارا سارا دن کھڑے رہنا پڑتا ہے مگر دفتر انتظامیہ لاپرواہی اور کوتاہی کر کے عوام کو مزید ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہاں انسانیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ہر گزرنے والا شخص حیرت بھری نگاہوں سے دیکھتا اور گھورتا ہے اور تمام ایجنٹ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام سے آئے غریب بیوہ کے پیسوں سے جیب بھرنے لگے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رمضان المبارک کو مدنظر رکھتے ہوئے 12500فی کس رجسٹرڈ غریب ممبر کو دیا گیا ہے جس پر مختلف ایجنٹ کی جانب سے 10000 روپے دیا جارہا ہے۔ اسکے علاوہ کچھ غریب ممبران کو 10500 موصول ھونے کے بعد اسکو بھی 8500 دیا جارہا ہے۔ متاثر خواتین کے مطابق اکثر ایجنٹ انگھوٹھے لگوا کر پیسے نہیں دیتے ہیں اور کہتا ہے ہمیں مزکورہ بینک کیش نہیں دے رہا ہے۔ اور ایجنٹ 2ہزار سے زیادہ کٹوٹی کرتے ہیں ، محکمے کو شکایت کرتے ہیں وہ کاروائی کرنے کے بجائے ایک پرچی تمھا دیتا ہے کہ آپ لوگ اسی ایجنٹ سے بقایا پیسہ وصول کریں۔ بیشتر مستحق خواتین دور دراز علاقوں سے تربت شہر کا رخ کرتے ہیں ضلع کیچ کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس نہ ہونے کی وجہ سے خواتین پیسے نکالنے کے لیے شہر آجاتے ہیں۔ کئی ایسے مستحق خواتین شامل ہیں ان کی گزر وبسر یہی پیسے ہوتے ہیں ، کولواہ ، دشت ، بلیدہ اور مند کے لوگ 2000 روپے کرایہ ادا کرکے پھر مایوسی سے لوٹ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں