زرعی کالج میں دن بدِن ڈپارٹمنٹس بند کئے جارہے ہیں،پی ایس ایف

کوئٹہ: پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں زراعت تباہی سے دوچار ہے بد قسمتی سے بلوچستان میں واحد ایگریکچر کالج میں دن بدِن ڈپارٹمنٹس بند کئے جارہے ہیں جس میں صوبے کے غریب طلبا و طالبات اپنا مستقبل بنانے کیلئے دور دراز علاقوں سے پڑھنے آتے ہیں انہی طلبا و طالبات کے مستقبل کے ساتھ کالج انتظامیہ ہمیشہ سے نئے سیشن کے ایڈمیشن میں میرٹ کی پامالی اور طلبا و طالبات کے سکالرشپ میں خورد برد میں ملوث رہی ہے طلبا و طالبات کو ماہانہ سکالرشپ کی مد میں گورنمنٹ آف بلوچستان کی طرف سے 1500روپے دئیے جاتے ہیں طلبا کو یہ سکالرشپ مہینوں بعد ملتی ہے جس میں مختلف ناموں پر کٹوتیاں کی جاتی ہیں پچھلے گورنمنٹ میں صرف بجلی کی مد میں لاکھوں روپے کالج کے پرنسپل کو چیک کے ذریعے ملے لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج تک کالج کے بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی طلبا و طالبات کے دیگر جائز مطالبات حال ہوئے ہیں جبکہ آن لائن کلاسز کے جھوٹے ڈراموں کی مد میں تمام طلبا و طالبات کا سمسٹر فیس 3000روپے سکالرشپ سے کاٹے جارہے ہیں بیان میں کہا گیا کہ دن دھاڑے اس لوٹ مار کے خلاف بہت جلد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ معاملے کی چھان بین کیلئے انکوائری بٹھائی جائے ورنہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن ایسے کرپٹ لوگوں کے خلاف بہت جلد پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہروں کے لئے میدان عمل میں نکلے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں