دشمن طاقتوں نے بلوچ معاشرے میں منشیات، سرداری نظام اور قبائلی سوچ کو فروغ دیا، بساک

کوئٹہ (پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بساک مستونگ زون کی پہلی آرگنائزنگ باڈی اجلاس مرکزی چیئرپرسن شبیر بلوچ کی سربراہی میں منعقد کی گئی جس میں مرکزی کمیٹی کے رکن عامر بلوچ بطور مہمان خاص شریک تھے۔ اجلاس میں مرکزی سرکیولر، آئین، تنظیمی امور ، عالمی و علاقائی سیاسی صورتحال کے ایجنڈوں پر سیر حاصل بحث کے بعد آئندہ لائحہ عمل کے ایجنڈے میں نئی زونل آرگنائزنگ باڈی تشکیل دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ذمہ داروں نے کہا کہ مستونگ بلوچستان کا وہ علاقہ ہے جہاں سے بلوچ سیاست کی بنیادیں عبدالعزیز کرد جیسے کرداروں نے رکھی تھی اور اسی علمی و سیاسی ماحول کو برقرار رکھنے کیلئے بلوچستان بھر میں بلوچ اکابرین نے انتھک جدوجہد کی اور لازوال قربانیاں دی۔ اس کے بعد سنگت ثناہ جیسے جہدکاروں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں سے مستونگ میں سیاسی تاریخ کو زندہ رکھا اور نوجوانوں میں سیاسی شعور کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے درمیان علمی ماحول کو فروغ دیا۔ اسی سیاسی تاریخ کو زندہ رکھتے ہوئے تنظیم آج بلوچ سیاست کی شہہ رگ مستونگ میں اپنی تنظیمی سرگرمیوں کی ابتداءکرنے جارہی ہے جوکہ تنظیم اور قوم کیلئے نیک شگون ہے۔ تنظیم سمجھتی ہے کہ آج مختلف طریقوں سے خاص کر یہاں کچھ بلوچ دشمن حلقوں نے منشیات ، سرداری نظام ، قبائلی سوچ کو لوگوں کے اندر فروغ دے کر اور سیاسی کارکنان کو انتقام ما نشانہ بناکر لوگوں کے سیاسی شعور کو دبایا ہوا ہے۔سیاسی شعور کے باوجود منظم پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ یہاں سیاسی حوالے سے منتشر ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی رہنماوں نے مزید کہا کہ بلوچ سماج کو ایک ایسی سیاسی طاقت کی ضرورت ہے جس کی بنیاد تنظیم اور اسکی ادارہ جاتی سوچ ہونی چاہیے۔ آج قبائیلی تنازعات، معاشی بے رزگاری، تعلیم سے دور، منشیات اور دیگر منظم پالیسیوں کے تحت بلوچ نوجوان کو اپنی سیاسی اور فکری سوچ اقر سرگرمیوں سے سے دور رکھا گیا ہے۔ ان تمام بلوچ دشمن پالیسیوں کے خلاف تنظیم کا علمی و شعوری پروگرام موجود ہے۔ مستونگ کی سرزمین پر جو بیج سوسال پہلے بویا گیا اسے آج بلوچ نوجوان اپنی جدوجہد سے بانج نہیں ہونے دیں گے۔ ان تمام بیماریوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور دوبارہ سیاسی ماحول کو پروان چڑھانا کیلئے موجودہ وقت و حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تنظیم ان پالیسیوں کے خلاف ایک منظم طریقے کار کی بنیاد پر آگے آئیں اور اس جدوجہد کو مزید وسیع و توانا کریں۔ مرکزی رہنماﺅں نے مزید کہا کہ مستونگ اور اس سے ملحقہ علاقہ جات میں بڑی تعداد میں بلوچ طالبعلم اور نوجوان سیاسی و علمی سرگرمیوں سے دور انفرادیت کا شکار ہوکر زوال پذیرہورہے ہیں جس کی وجہ سے پورا معاشرہ جمود کا شکار ہورہا ہے۔ اس جمود کو توڑنے کیلئے مستونگ سمیت نزدیک کے تمام علاقہ جات میں تنظیم کی جانب سے شعوری سرگرمیوں جن میں اسٹڈی سرکلز، بلوچستان کتاب کاروان کا سلسلہ شروع کیا جائے گا اور بلوچ نوجوانوں کو علمی و شعوری پلیٹ فارم مہیا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ آرگنائزنگ باڈی اجلاس کے آخری ایجنڈے آئندہ لائحہ عمل میں بساک مستونگ زون کے آرگنائزنگ باڈی کا قیام عمل میں لایا گیا اور نئی زونل آرگنائزنگ باڈی منتخب کی گئی جس میں زونل آرگنائزر میر احمد بلوچ، ڈپٹی آرگنائزر نبی بخش اور آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر یاسر،شاہ رحمن اور فرقان چنے گئے۔ آخر میں مرکزی سنگت عامر بلوچ نے زونل آرگنائزنگ باڈی کو حلف دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں