چین کے آہنی پنجے

انور ساجدی
چین نے ایران سے تذویراتی معاہدہ کے بعد جنوب مغربی ایشیاء بلکہ پورے خلیج پر اپنے پنجے گاڑھ لئے ہیں ایران کی مجبوری یہ ہے کہ طویل اقتصادی پابندیوں اور گزشتہ ہفتہ ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے بعد وہ یکہ وتنہارہ گیا تھا لہٰذا چین کی پناہ میں جانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا چین کے ساتھ ایران کے معاہدوں کی اہمیت کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا لیکن مغربی میڈیا نے خیال آرائی کی ہے کہ اقتصادی تعاون کے علاوہ سیکیورٹی کے معاملات پر بھی طویل المدتی معاہدات ہوئے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوپڑوسیوں کے ساتھ یکساں تعلقات قائم رکھنے میں چین کس حد تک کامیاب رہے گا؟ پاکستان میں ایک عشرہ پہلے سی پیک شروع کیا گیا تھا پہلے اس کا حجم 35ارب ڈالر تھا جو بڑھ کر57ارب ڈالر ہوگیا ہے یہ قرضوں اور گرانٹ کا ملغوبہ ہے اورمغربی میڈیا اورامریکہ کے مطابق شرح سود8فیصد رکھی گئی ہے جس کی ادائیگی پاکستان کیلئے بہت ہی مشکلات کا سبب بنے گی لیکن چین کو اسکی کوئی فکر نہیں ہے وہ جانتا ہے کہ پاکستان اسکے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہوگا جس طرح کہ18ویں صدی میں انگریزوں نے انڈیا کوسونے کی چڑیا کا لقب دیا تھا جس کی وجہ سے انگلستان کی خوشحالی میں کئی گنا اضافہ ہوگیاتھا۔دو روز ہوئے ایک امریکی ترجمان نے فرمایا کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ہے جس کے ذریعے چین دنیا کے وسائل اپنے تصرف میں لینا چاہتا ہے ایسٹ انڈیا کمپنی کالونی دور کی یادگار ہے جبکہ اس وقت دنیا میں جدید کالونی نظام رائج ہے جس کاآغاز گزشتہ صدی میں امریکہ نے کیا تھا لیکن چین نے جدید نو آبادیاتی نظام کو نئی طرح دی ہے وہ دوستی کے نام پر آگے بڑھ رہا ہے اگرچہ امریکہ ساؤتھ چائنا سی پرچین کے ساتھ تنازعہ کھڑا کررہا ہے تو جواب میں چین نے خلیج میں اسکی شہہ رگ پر ہاتھ ڈال دیا ہے پاکستان کے بعد ایران جو رقبہ اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ہے اسکی جھولی میں آگراہے ایران کو نہ صرف امریکہ اور اسکے عرب اتحادیوں سے خطرہ لاحق ہے بلکہ میڈیا کے ایک حصے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسکی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی کی مددسے حملہ کیا ہے لیزرشعاعوں سے مزین اسرائیل کے ہتھیاروں نے خاموشی کے ساتھ اپنا کام کیا ہے خود ایران حکام کو بھی بعد میں پتہ چلا کہ اصل میں ہوا کیا ہے نہ صرف یہ بلکہ بوشہر میں جن کشتیوں کو تباہ کیا گیا اس کا سبب بھی اسرائیلی حملے کو بتایا جارہا ہے ایران نے چند سال قبل بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا اور چاہ بہار پورٹ کی تعمیر کامعاہدہ کیا تھا لیکن انڈیا کی غیرذمہ داری سے یہ پورٹ سست روی کا شکار ہے جس سے دلبرداشتہ ہوکر ایران نے چاہ بہار سے زاہدان تک ریل کے منصوبے سے انڈیا کو نکال دیا توقع ہے کہ یہ منصوبہ چین مکمل کرے گا فی الحال چین اور ایران کامعاہدہ25سالہ ہے لیکن اس میں اضافہ کا امکان ہے کیونکہ چین ایران میں بیلٹ اینڈروڈ منصوبہ شروع کرکے بھاری سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے چونکہ سستے داموں تیل کی فراہمی کا معاہدہ بھی ہوا ہے اس لئے ایران کیلئے چینی قرضوں کی ادائیگی آسان ہے ایسے وقت میں جبکہ ایرانی تیل کا کوئی خریدار نہیں ہے اور مودی نے امریکی خوف سے ہاتھ کھینچ لیا تو چین کی خریداری ایران کیلئے ایک بڑی نعمت سے کم نہیں ہے معاشی مفادات اس قدر اہم ہوتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوری پاکستان نے سنکیانگ کے مسلمانوں پر چینی حکومت کے مظالم پر آنکھیں بند کررکھی ہیں عثمانی خلیفہ طیب اردواں بھی ایسٹرن ترکستان تحریک اور ترک مسلمانوں پرجبر وقہر کیخلاف خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
چین کی ایران آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے،اس سے پاکستان کوفکر ہونی چاہئے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھے گا ایسا تو نہیں کہ وہ انہیں اربوں ڈالر کے قرضوں میں جکڑ کر اپنے معاشی اور تذویراتی مقاصد اورعزائم پورے کرے جبکہ دونوں ممالک کے عوام اسی طرح تباہ وبرباد رہیں پاکستان کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ چین کا زمینی ہمسایہ ہے وہ سلک روڈ کاشریک بھی ہے ہمالیہ میں چین اور پاکستان میں واحد قدر مشترک یہ ہے کہ ہندوستان ان کا مشترکہ دشمن ہے جبکہ ایران کی ایسی صورتحال نہیں ہے چین پاکستان کے جغرافیہ سے فائدہ اٹھاکر ہندوستان کو سبق سکھا سکتا ہے جبکہ ایران کو دشمنی مول لینے کی ضرورت نہیں ہے ایران کوپاکستان پریہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ عام استعمال کی ہر چیز میں خودکفیل ہے بلکہ پاکستان اور افغانستان اسکے تیار مال کی بڑی منڈیا ں ہیں لیکن چین جب تجارت شروع کرے گا تو ایرانی کمترمال غائب ہوجائے گا پاکستان کی طرح وہ بھی چینی مال کی منڈی بن جائیگا پاکستان کے برعکس ایرانی کی اپنی جغرافیائی اہمیت ہے اگر گوادر کے بعد چین نے کوئی ایرانی بندرگاہ لیز پرحاصل کرلیا یا اس نے افغانستان تک ریل اورروڈ کا منصوبہ بنایا تو افغانستان ٹرانزٹ روٹ وہی ہوجائیگا اسکے علاوہ چین ایران کے راستے ایشیائے کوچک تک اپنی منڈیوں کو فروغ دے گا۔چین کا پروگرام ہے کہ وہ یورپ کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے اگر اس نے جارجیا کو بیلٹ اور روڈ منصوبے میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تو درمیان میں ترکی حائل ہوگا لیکن چین خلیج کو پاٹنے کیلئے قبرص اور یونان کاراستہ نکال سکتا ہے ایک جو حقیقت ہے کہ امریکہ اپنی موجودہ پوزیشن سے پسپائی اختیار کررہا ہے جبکہ چین 50سال آگے کے منصوبے بنارہا ہے امریکہ افغانستان سے انخلا کیلئے بے چین ہے جبکہ چین افغانستان کو بھی سی پیک میں شامل کرنا چاہتا ہے یعنی ایک کااثر بڑھ رہا ہے ایک کا کم ہورہا ہے چین کو افغانستان کے ”لیتھیم“ کی شدید ضرورت ہے جس سے بھاری بیڑیاں بنتی ہیں تمام دنیا کی گاڑیاں آئندہ پانچ سالوں میں انہی بیڑیوں پرچلنا شروع کردیں گی اس وقت بھی امریکی موٹرساز کمپنیاں بیڑیوں کیلئے چین کے محتاج ہیں۔اگرچہ امریکہ اور یورپی اتحادیوں نے جدید چینی مواصلاتی ٹیکنالوجی فائیوجی پر پابندی عائد کردی ہے لیکن جن ممالک پر چین کا تسلط ہورہاہے وہ امریکہ سے بڑی منڈی ہیں یہ تومعلوم نہیں کہ چین ایران میں کیا انفرااسٹرکچر بنائے گا لیکن یہ بات یقینی ہے کہ چاہ بہار سے بندر عباس تک اسکی نظر بلوچ ساحل پر ہے گوادر تو وہ پہلے لے چکا ہے جہاں امریکہ کے بقول وہ ایک بڑا نیول بیس بنارہا ہے یعنی پورے خلیج میں اسکے جنگی اور تجارتی بیڑے دندناتے پھریں گے اور امریکہ سب کچھ بے بسی کے ساتھ دیکھتا رہے گا پورے خطے میں امریکہ کا بھروسہ اسرائیل پر ہے لیکن اسرائیل بھی جرأت نہیں کرے گا کہ وہ مشرق وسطی میں موجود چینی بیڑے کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرسکے۔کسی نے سوچا نہ تھا کہ بلوچ ساحل اس طرح بڑی طاقتوں کی آماجگاہ بنے گا یا بلوچستان کی آبادی سنکیانگ کی طرح مجبور اور مقہور ہوگی۔ایران تو پہلے ہی اپنے بلوچستان میں قطع وبرید کرکے بے شمار علاقے دوسرے صوبوں میں ضم کرچکا ہے وہ اپنے سب سے اہم ساحلی شہر بندرعباس میں ڈیموگرافک تبدیلی لاچکا ہے چاہ بہار میں بھی یہی عمل جاری ہے۔
گزشتہ روز سینیٹ میں ایم کیو ایم سے وابستہ بیرسٹرمحمدعلی سیف نے شیری رحمن،رضا ربانی،میرکبیرمحمد شہی اور ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی کی این ایف سی ایوارڈ اور18ویں ترمیم کے بارے میں اٹھائے گئے نکات کے جواب میں ایک بے حد جذباتی تقریر کی بلکہ تقریر کے دوران وہ آپے سے باہر تھے انکی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر تبصرے آنے لگے کہ کارپٹ بمباری کرکے بلوچستان کی پوری آبادی کا صفحہ ہستی سے مٹادیاجائے اس سلسلے کی سینکڑوں پوسٹیں ملتی جلتی تھیں یہ وہی مائنڈسیٹ ہے جس نے مارچ1971ء میں مشرقی پاکستان پربمباری کی حمایت کی تھی۔جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا ان کا کہنا ہے کہ یہ1971ء نہیں ہے بات تو صحیح ہے لیکن نالائق قوموں کی قسمت میں ہمیشہ غلامی لکھ دی جاتی ہے۔اپنی ریاست کو ناکامی سے دوچار کرنے کے بعد اس مائنڈ سیٹ کی قسمت میں چین کی غلامی لکھ دی گئی ہے۔اگرناکامیوں کا یہی حال رہا تو اس خطہ کے لوگوں کا وہی حال ہوگا جو1757ء میں جنگ پلاسی کے بعد پہلے بنگال اور اسکے بعد پورے ہندوستان کا ہوا تھا خدا نے انہیں پورا موقع عنایت کیا تھا کہ وہ وسائل سے مالامال اپنے وطن کو آگے لے جائیں لیکن وہ ناکام رہے اور حال یہ ہے کہ
ملک کے وزیراعظم کو معلوم نہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم کونسا ہے۔بھاشاڈیم کی تقریب میں وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ یہ ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا جب واپڈا کے چیئرمین نے انگلیوں سے تین کا نشان بنایاتب وزیراعظم نے کہا کہ یہ تیسرا بڑاڈیم ہوگا ایسی قیادت کیاملک کو آگے لے جائے گی اس کا کیا وژن اور کیا وجدان ہوگا جو نتیجہ ہے وہ سبھی جانتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں