لسبیلہ،کورونا کے کیسز میں اضافہ، مریضوں کی تعداد، 186ہوگئی

اوتھل: ضلع لسبیلہ میں کورونا وائرس کے کیسزخطرناک حدتک بڑھنے لگے،حب کے بعد اوتھل اور بیلہ میں بھی کورونا وائرس سے کئی لوگ متاثر، محکمہ صحت لسبیلہ کی رپورٹ کے مطابق کورونا مریضوں کی تعداد186ہوگئی جبکہ آزادذرائع کے مطابق تعداد اس سے کئی زیادہ ہے، حب اور اوتھل میں کرونا وائرس سے تین افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کے آبائی ضلع لسبیلہ میں بھی کوروناوائرس سے متاثر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس بیماری کو سنجیدہ نہیں لے رہے ضلع لسبیلہ ایک تو کراچی سے منسلک ہے اور کوئٹہ کے علاوہ اندرون بلوچستان،سندھ اور پنجاب سے بھی آزادانہ طور پر لسبیلہ کے مختلف شہروں میں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے اکثر لوگوں کو کورونا وائرس کا پتہ ہی نہیں چلتا اگر چلتا ہے تو وہ سنجیدہ نہیں لیتے جس کی وجہ سے وائرس پھیلتا رہتا ہے اور جب مریض زیادہ سیریس ہوجاتے ہیں تو وہ کراچی کی ہسپتالوں میں علاج کراتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کیس کراچی میں ظاہرکئے جاتے ہیں،جب کہ انتظامیہ حکومتی ایس اوپیزپر مکمل عملدرآمد کرانے میں ناکام ہے،بیشتر دکاندار،ہوٹل مالکان اور سبزی فروش،دیگر کاروباری حضرات نہ تو ماسک کا استعمال کرتے ہیں نہ ہی گاہک اور نہ ہی سماجی فاصلے کا خیال رکھا جاتاہے،عام شہر ی ماسک پہنے کم ہی نظر آتے ہیں جو ماسک پہنتے ہیں لوگ انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں گزشتہ روز اوتھل کے ایک مشہور سبزی فروش کاکورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیاہے جبکہ گزشتہ دنوں اوتھل کے معروف اسپورٹس مین مبارک بٹ بھی کورونا وائرس کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے اور بتایا جارہاہے کہ ہندومحلہ میں بھی کئی لوگوں کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے جن میں سے کچھ نے خودکو آئسولیٹ کردیا تھاجس کے باعث وہ ٹھیک ہوگئے ہیں لیکن اب بھی یہی شبہ ظاہرکیا جارہاہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل میں کئی افراد میں کورونا وائرس موجود ہے لیکن لوگ نہ ہی احتیاطی تدابیر پر عمل کررہے ہیں اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ ایس او پیز پرعملدرآمد کرانے میں کامیاب ہورہی ہے اب جب کہ عید قرباں قریب قریب ہے اور مویشی منڈیوں میں شہریوں کا ہجوم نظر آتا ہے اگر حکومتی ایس او پیزپر سختی سے عملدرآمد نہ کرایا گیا تو کورونا کے کیس تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں