ہنگول نیشنل پارک بھرتیوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں، سماجی و عوامی حلقوں کا رد عمل
اوتھل(یو این اے )کنڈملیرکی معزز شخصیات میر عبداللہ ڈگارزئی،میر اکبر ڈگارزئی،نوربخش ڈگارزئی،یوسف ساجدی، ڈاکٹر عبدالحمیدساجدی اور دیگر نے ارمابیل پریس کلب اوتھل میں پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ہنگول نیشنل پارک میں حالیہ بھرتیوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں کنڈملیر اور ملحقہ علاقوں کے مقامی امیدواروں کو نظرانداز کرکے اوتھل،بیلہ اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو بھرتی کیا گیاجو مقامی نوجوان امیدواروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے حالانکہ مقامی نوجوان کئی عرصے سے ہنگول نیشنل پارک میں کنٹریکٹ بنیادوں پر ملازمت کررہے ہیں لیکن حالیہ بھرتیوں میں انہیں یکسر نظرانداز کیا ہے اگر ایک ہفتے کے اندر اندر مذکورہ بھرتیوں کو کینسل نہیں کیا گیاتو مکران کوسٹل ہائی وے کو بلاک کرکے ہنگول نیشنل پارک کے افسران کے خلاف کوسٹل ہائی وے پرغیر معینہ مدت کیلئے دھرنا دیا جائے گاانہوں نے کہاکہ ہنگول نیشنل پارک کے قیام کے دوران ہم سے وعدہ کیا گیاتھاکہ ہنگول نیشنل پارک میں جتنی بھی ملازمتیں آئیں گی ان میں کنڈملیر کے مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا لیکن ان تیس چالیس سالوں کے دوران ہمارے آٹھ سے دس نوجوانوں کو ہی ملازمتیں دی گئی ہیں اور باقی تین چار ہنوز کنٹریکٹ بنیادوں پر کام کررہے ہیں لیکن گزشتہ دنوں ہنگول نیشنل پارک میں بھرتیاں کی گئیں تو ان میں کنڈملیر کے مقامی نوجوانوں کو نظرانداز کرکے دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو بھرتی کیاگیاجس پر مقامی نوجوانوں میں شدید غم وغصہ پایا جارہاہے اگر ایک ہفتے کے اندر بھرتی کئے گئے امیدواروں کے آرڈر منسوخ نہ کئے گئے تو ہم ان مقامی نوجوانوں کے ساتھ ملکر مکران کوسٹل ہائی وے کو بلاک کردیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری ہنگول نیشنل پارک کے افسران پر عائد ہوگی جنہوں نے یہ آگ جلائی ہے اس ساری صورتحال کے حوالے سے ہم نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیر اعلی میرسرفراز بگٹی کو بھی آگاہ کردیاہے اگر پھر بھی ہمارے نوجوانوں کے ساتھ انصاف نہ کیا گیاتو ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے انشا اللہ ہم اپنے حق کیلئے لڑیں گے آج کی اس پریس کانفرنس کے توسط سے ہم ارباب بست وکشاد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کنڈملیر اور اس سے ملحقہ مقامی نوجوانوں کے ساتھ انصاف کرکے ہنگول نیشنل پارک میں مقامی نوجوانوں کے آرڈر کیے جائیں اس موقع پروڈیرہ رمضان ڈگارزئی،وڈیرہ سمین ڈگارزئی،وڈیرہ ماما ڈگارزئی،ماسٹر نبی بخش انگاریہ،ماسٹر عامر خان ڈگارزئی،بلند جان ڈگارزئی،مزار کرد،حمید ڈگارزئی،عطااللہ ڈگارزئی،امیر جان سیاپاد،جاوید ڈگارزئی،میراسماعیل ڈگارزئی،وڈیرہ محمد خان ماما،حبیب اللہ داد محمد،عبدالرحمن سلیمان،عظیم علم ڈگارزئی،گنج بخش بابو اور دیگر موجود تھے۔


