ایس بی کے ٹیسٹ حوالے سے وزیراعلیٰ کی تقریر عدالتی فیصلے سے رو گردانی ہے، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ (آن لائن) سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے پیر 20 مئی 2024 کو بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی سردار بہادر خان یونیورسٹی کی ٹیسنگ سروس کے تحت مرتب کئے گئے محکمہ تعلیم کے اساتذہ کے نتائج پر وزیر اعلی میر سرفراز خان مسوری بگٹی کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان کے 24 اپریل 2024 کے فیصلے سے روگردانی اور اس کے خلاف مزاحمت و اعلان جنگ سمجھتا ہوں آئین کے آرٹیکل 189 تحت ہر ادارہ و حکومت و عدالت و فرد اس کے فیصلوں کی پیروی و عملدرآمد کا پابند ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی تشریح سپریم کورٹ خود کرسکتی ہے کوئی فرد و اعلیٰ عہدیدار و حکومت و اسمبلی نہیں کرسکتی اس لئے جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے وہیں اسمبلی میں اس پر بحث و قرارداد پر ووٹ کرنے والے بھی قابل مواخذہ ہوسکتے ہیں عدالتوں کے فیصلے اگر اسمبلی کی قراردادوں سے روکے جاسکتے ہوتے تو آصف علی زرداری سوئس بنک میں کالا دھن چھپانے اور اور وزیر اعظم کے خط نہ لکھنے پر سپریم کورٹ کے احکامات پر متعدد بار بار قرارداد وں کے باوجود یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی کاروائی سے بچالیتے جبکہ اس کے برعکس عدالت عظمیٰ نے ان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیکر گھر بھیج دیا جبکہ یہاں ایک ایسا وزیراعلیٰ سپریم کورٹ سے سینگ لڑا رہا ہے جس کی اپنی اہلیت الیکشن کمیشن پاکستان و الیکشن ٹریبونل میں زیر التوا ہے کہ وہ آئینی لحاظ سے آرٹیکل 224 -A کے تحت نگران وزارت پر فائز ہونے کے فوری بعد ہونے والے الیکشن میں حصہ لے سکتے تھے کہ نہیں درخت کی کمزور شاخ پر بیٹھ کر درخت کو کاٹنا اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔


