تنخواہیں اور پنشن نہ مل سکی، بلوچستان یونیورسٹی ملازمین کا احتجاج جاری
کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی بلوچستان یونیورسٹی کے زیر اہتمام بلوچستان یونیورسٹی ملازمین اور اس کے زیر اہتمام سینٹرز کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشنز کی عدم ادائیگی انکا مستقل حل پر بلوچستان یونیورسٹی کے مین گیٹ سریاب روڈ کے مقام پر احتجاجی کیمپ میں دھرنا جاری رہا اور سریاب روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی گئی اور آخر میں احتجاجی جلسہ زیرصدارت چئیرمین بلوچستان یونیورسٹی ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن نذیراحمدلہڑی منعقد ھوا احتجاجی جلسے سے نذیراحمدلہڑی ، پروفیسرڈاکٹرکلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی فریدخان اچکزئی،نعمت اللہ کاکڑ، پروفیسر ارسلان شاہ، سید شاہ بابر، سیدمحبوب شاہ گل جان کاکڑ، اور حافظ عبدالقیوم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی مسلسل نظر اندازی جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام اور ملازمین کو اشتعال دلانے کی کوشش ہے جس کی وجہ سے وہ سخت قدم اٹھا نے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ مقررین نےکہا کہ اگر دو دنوں میں وزیراعلی و پارلیمانی کمیٹی کے وعدے کے مطابق فنڈز جاری نہیں کیا گیا تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی سریاب روڈ کو بلاک کرکے احتجاجی کیمپ لگائیںگی اور صوبائی اسمبلی کے سامنے بھی دھرنا دیگی۔مقررین نے اعلان کیا کہ جب تک مالی بحران کا مستقل حل سمیت بجٹ میں فنڈر مختص نہیں کیا جائے گا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، انہوں نے وزیر اعلی و گورنر بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ بلوچستان،ریسرچ سینٹرز کو درپیش سخت مالی بحران کی مستقل حل کےلئے آنے والے سالانہ بجٹ میں کم ازکم دس ارب روپے اور انڈونمنٹ فنڈز کے لئے پانچ ارب روپے مختص کریں، اور ملازمین کے تنخواہوں کی ادائیگی کےلئے فوری طور پر مطلوبہ فنڈز کا اجرا کیا جائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ کل بروز منگل 21 مئی کو بھی جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ میں دھرنا اور سریاب روڈپر احتجاجی ریلی نکالی جائے گا جس میں جامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین سے شرکت کریں گے


