حکومتی پالیسی سے ٹیکنیکل ایجوکیشن کا شعبہ تباہی کی تصویر بنتا جا رہا ہے، پاکستان لیبر فیڈریشن
کوئٹہ(پ ر)آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالستار نے بلوچستان حکومت کی جانب سے ٹیکنیکل سینٹرز کی پرائیویٹائزیشن کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹائزیشن کا تجربہ پوری دنیا سمیت پاکستان میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اس کے باوجود بلوچستان حکومت کی جانب سے عوام کی خواہشات کے برعکس اس پالیسی پر عملدرآمد کرنا ملکی مفادات کے خلاف ہے آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صوبائی حکومت کی پرائیویٹائزیشن پالیسی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالستار کا کہنا تھا کہ پرائیویٹائزیشن کے عمل کے ذریعہ پرائےوےٹ ٹھیکیداروں کے مخصوص گروپس کو نوازا جا رہا ہے جس کے نتیجہ میں ملکی معیشت و اقتصادیات پر مخصوص گروہوں کا قبضہ ہوتا جا رہاہے۔پاکستان کے معروف ٹریڈ یونین لیڈر عبدالستار نے بلوچستان حکومت کی پالیسیوں کو صوبے میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کی راہ میںسب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت نے حب اور خاران کے ٹیکنیکل سینٹرز کو پرائیویٹائزڈکر دیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں اب ان ٹیکنیکل سینٹرزمیںاُلو بول رہے ہیںجبکہ حکومتی پالیسی سے ٹیکنیکل ایجوکیشن کا شعبہ تباہی و بربادی کی تصویر بنتا جا رہا ہے۔عبدالستار کا کہنا تھا کہ پرائیویٹائزیشن کے خلاف جدوجہد میںآل پاکستان لیبر فیڈریشن محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،ہم بلوچستان ٹیکنیکل سینٹرز کے ادارے کو پرائیویٹائزیشن کے عمل سے بچانے کیلئے پرُ امن احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے اگر صوبائی حکومت نے بلوچستان ٹیکنیکل سینٹرز کو پرائیویٹائزڈ کرنے کا اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو جلد ہی پورے صوبے میں احتجاجی تحریک چلائیں گے۔


