بلوچستان بارکونسل نے مختلف مطالبات مسترد کر دیے

کوئٹہ(پ ر)بلوچستان بار کونسل کے جاری ایک بیان میں گزشتہ دنوں میں پنجاب بار کونسل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جحجز کے تقرریوں میں کوٹہ سسٹم کی بحالی اور لاہور ہائیکورٹ سے تین جحجز کے تقرری کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بار کونسل کے اس مطالبے کو صوبائی بار کونسلز مسترد کرتے ہیں ۔ بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تقرری کیلئے متناسب نمائندگی ہونی چاہیے ۔ سپریم کورٹ ایک فیڈرل کورٹ ہے جس میں چار صوبوں کی برابر نمائندگی ہو پاکستان ایک کثیرالقومی ملک ہے جس میں ہر زبان اورقوم کے لوگ بستے ہیں ۔ صرف پنجاب سے تینوں ججز کی تقرری کا مطالبہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ۔ بیان میں کہا کہ اس وقت سندھ صوبے سے کوئی بھی سندھی بولنے والا جج سپریم کورٹ میں نہیں ۔پاکستان کی تاریخ میں آج تک کوئی بلوچ سپریم کورٹ کا جج نہیں بنا سپریم کورٹ میں سینارٹی کے اور الجہاد ٹرسٹ کیس کے اصولوں کے بنیادپر ججز کی تقرری ہونا چاہیے ۔ بیان میں کہا کہ اس سے قبل سینارٹی کو نظر انداز کرکے پانچویں اور چھٹے نمبر پر ججز کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا جس کے خلاف وکلاءنے ملک گیر احتجاج کی بیان میں کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منظور ملک ریٹائرڈ نے مخلصانہ کوششوں سے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس میں ججز کے تقرریوں کے طریقے پر رولز بنائے اور 3 مئی کو وزیر قانون کے جھوٹے تسلی اور اپنی حکومت کے ناجائز اقدامات کو تحفظ کرنے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ایک سوچے سمجھے سازش کی بنیاد پر موخرکروایاگیا ۔ بیان میں کہا کہ جب تک جوڈیشل کمیشن کے رولز نہیں بنتے تب تک ملک بھر سے کوئی بھی اور کسی قسم کی تقرری نہیں کرنا چاہیے ۔ بیان میں مزید کہا کہ تمام صوبوں کے ہائی کورٹس میں اور بالخصوص سپریم کورٹ میں متناسب نمائندگی کے بغیر کسی بھی تقرری کے خلاف احتجاج کریں گے اور اس قسم کے اقدامات سے ملک میں رہنے والے مختلف اقوام میں بے چینی پھیلنے کے ساتھ ساتھ ھماری جوڈیشیل سسٹم بھی تباہی ھوگا اور عام عوام کا پہلے سے ھماری عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں