ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی بلوچستان سے باہر اسمگلنگ بند کی جائے، عوامی حلقے
خضدار (بیورو رپورٹ) خضدار سمیت بلوچستان کے تمام شہروں کے علاوہ باقی صوبوں میں ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی پابندی کے باوجود ایک مرتبہ پھر ایرانی پیٹرول مافیازنے سر اٹھالیا ہے، پیٹرول اورڈیزل کی اسمگلنگ دوسرے صوبوں کیلئے تیزی سے شروع کردی ہے، ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے لگیں، گزشتہ مہینوں سے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات دیگر صوبوِں میں جانے پر مکمل پابندی سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کافی کم ہوگئی ہے۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کو چوری چھپے دوبارہ اسمگلنگ شروع کردی گئی ہے تیل کی قمیتیں بڑھنے لگی ہیں، ایرانی پیٹرول کی قیمت ڈھائی سو روپے سے کم ہوکر ڈیڑھ سو روپے تک پہنچ گئی اگر اس پر سختی ہوتے رہی تو ایرانی پیٹرول کم ازکم سو روپے پر پہنچ جائے گا گزشتہ روز سے مختلف راستوں سے اسمگلنگ شروع کردی گئی ہے۔ سندھ اور بلوچستان سے ملنے والے بارڈروں کے مختلف راستوں سے صوبہ پنچاب میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ تیزی سے شروع ہے، روزانہ کئی گاڑیاں ہزاروں لیٹر تیل دوسرے صوبے لے جارہے ہیں اور بلوچستان میں ایرانی تیل قیمت بڑھنے لگی ہے، 150 روپے لیٹر سے یکدم 180 روپے تک آگئی ہے اگر مزید ان پر پابندی برقرار نہ رکھی گئی تو ایرانی پیٹرولیم مصنوعات تیزی سے بڑھ جائے گی، ایرانی تیل اور پاکستانی تیل کی قیمتوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا، خضدار کے عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، کمشنر قلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنر خضدار و دیگر حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر دوسرے صوبوں کیلئے ایرانی تیل کی اسمگلنگ پر سختی سے عملدرآمد کروائیں اور بلوچستان کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں تاکہ غریب عوام سستی تیل اور دیگر ایشیا کو خدید کرکےاپنے زندگی کی صحیح معنوں میں بسرسکیں۔


