دالبندین میں زمباد گاڑی نہ روکنے پر لیویز اہلکاروں کی فائرنگ ، ڈرائیور گرفتار

دالبندین (یو این اے )دالبندین زمبیاد گاڑی فائرنگ کے تبادلے کے بعد تحویل میں لے لیا گیا زائرین کی سیکورٹی پر مامور لیویز فورس نے زمبیاد گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا نہ رکنے پر ہوائی فائرنگ کی مجبورا زمبیاد گاڑی کی ٹائر کو برسٹ کرکے ڈرائیور اور گاڑی کو تحویل میں لے لیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز 20 بسوں اور چھ ٹوڈی کار گاڑیوں پر مشتمل زائرین کی کانوائے تفتان سے کوئٹہ کی جانب آر سی ڈی شاہراہ یک مچ کے قریب سے گزررہے تھے اس دوران ایک زمبیاد گاڑی مشکوک حالت میں آر سی ڈی شاہراہ پر سفر کررہا تھا یک مچ لیویز نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تاکہ زائرین محفوظ طریقے سے اپنا سفر جاری رکھ سکیں زمبیاد ڈرائیورنے لیویز کی گاڑی کو ٹکر مار کر بھاگ گیا چونکہ سامنے سے زائرین کی کانوائے بھی آرہی تھی لیویز عملہ نے معمول کے مطابق اپنی فرائض کو سرانجام دیتے ہوئے گاڑی کا تعاقب کرکے ہوائی فائرنگ کی زمبیاد گاڑی مزید رفتار بڑھا دیا زائرین کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے لیویز فورس نے گاڑی کے ٹائر برسٹ کرکے گاڑی اور ڈرائیور کو تحویل میں لیکر زائرین کو یک مچ کے علاقے سے با حفاظت روانہ ہونے کے بعد گاڑی ڈرائیورسے پوچھا گیا آپ کیوں بھاگ رہے تھے بتایا گیا 10 بوری چینی اسمگل کررہا تھا اس وجہ سے بھاگ رہا تھا لیویز ذرائع کے مطابق لیویز کی گاڑی کو ٹکر مارنے اور زائرین کی مومنٹ کے دوران مشکوک حالت میں سفر کرنا اور لیویز سیکورٹی گاڑی کو ٹکر مار کر بھاگنے کی جرم میں تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کردیا کیونکہ اس سے قبل تفتان میں زائرین اور دالبندین کے قریب چائینز کانوائے پر عملہ ہوچکا ہے زائرین اور فارنر کی مومنٹ کے دوران آر سی ڈی شاہراہ پر سیکورٹی سخت کردی جاتی ہے عوامی حلقوں کا کہناہے چند لوگ سوشل میڈیا میں اصل حقائق کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں جس سے فورس کی مورال کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں اور اصل حقائق کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں تاکہ عوام اور فورس کے درمیان دوریاں پیدا ہوں ایسے عناصر کخلاف کاروائی ہونی چایئے اور ڈپٹی کمشنر چاغی اور کمشنر رخشان سے مطالبہ ہے فورس کے جوانوں کے ساتھ کھڑا رہے اور سوشل میڈیا نے گزشتہ روز وزیر اعلی کو بھی غلط تاثر دیا تھا جس کی وضاحت وزیر اعلی بلوچستان کو بعد میں میڈیا کے سامنے کرنی پڑی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں