آل پارٹیز کی دھرنا گاہ آمد، حکومت معاہدے پر عمل نہیں کررہی، کارکنوں کو رہا کیا جائے، ڈاکٹر ماہ رنگ
گوادر (بیورو رپورٹ) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام جاری دھرنا چھٹے روز میں داخل۔ دھرنے میں ہزاروں افراد موجود، دوبارہ ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا۔ آل پارٹیز کے وفد کی دوبارہ دھرناگاہ آمد، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ اور ثالثی کیلئے دوبارہ ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی ۔ آل پارٹیز کے وفد میں نیشنل پارٹی کے غفور ہوت، زبیر ہوت، عبدالقادر بلوچ، حق دو تحریک کے چیئرمین حسین واڈیلہ، جنرل سیکرٹری حفیظ کیازئی، بی این پی کے ضلعی صدر ماجد سہرابی، جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا عبدالحمید انقلابی، بی این پی کے کہدہ علی بلوچ، بی این پی عوامی کے سیکرٹری جنرل سعید فیض شامل ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اورسمی دین بلوچ نے کہا کہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا جارہا، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی۔ گوادر کے علاوہ صوبہ بھر میں کارکن رہا نہیں کئے جارہے، نوشکی میں 250 سے زائد افراد پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔ کراچی میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔قومی دھرنا میں شریک تمام کارکن حوصلہ رکھیں۔پرامن رہیں،پرامن اور جمہوری جدوجہد ہمارا آئینی حق ہے۔ریاست نے ایک پرامن قومی اجتماع پر حملہ کرکے قومی اجتماع کو صوبہ بھر سمیت دنیا بھر میں کامیاب کرایا۔صوبہ بھر میں کارکنوں کو رہا نہیں کیا گیا تو دھرنا جاری رہے گا اور ہم اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔


