اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملوں کیلئے گوگل، مائیکرو سافٹ اور ایمازون سروسز کے استعمال کا انکشاف

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے فلسطین میں گزشتہ ایک سال سے جاری جنگ کے درمیان حملوں میں آسانی اور مدد کے لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیز، گوگل، مائیکرو سافٹ اور ایمازون کی سروسز استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اور فوجیں ٹیکنالوجی کمپنیز کی سروسز استعمال کرتی ہیں لیکن عام طور پر کسی کو بھی جنگی مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی، اس مقصد کے لیے ممالک اپنی مقامی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطین میں حملوں میں مدد اور فوجی مقاصد کے لیے ایمازون کی کلاو¿ڈ سروس سمیت گوگل اور مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ٹولز کا استعمال کر رہی ہے۔ ترک خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کی رپورٹ کے مطابق خبر رساں ایجنسیوں کی حاصل کردہ ریکارڈنگ میں اسرائیلی فوج کے سینٹر آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن سسٹمز یونٹ کی کمانڈر کرنل راچیلی ڈیمبنسکی کی فوجی اور صنعتی اہلکاروں کو دی گئی ایک پریزنٹیشن میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا۔ خیال رہے کہ سینٹر آف کمپیوٹرز اینڈ انفارمیشن سسٹم اسرائیلی فوج کے لیے تمام ڈیٹا پروسیسنگ کی نگرانی کرتا ہے۔